وفاقی چیمبر نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس لائف لائن قراردیدیا

وفاقی چیمبر نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس لائف لائن قراردیدیا

بھارت تجارتی سازشوں میں مصروف ،اسٹیٹس کو متنازع بنانے کی کوشش کررہا سہولت 2027تک برقرار، خاتمہ خطرناک ثابت ہوگا،ثاقب فیاض ، امان پراچہ

کراچی(بزنس رپورٹر )وفاقی چیمبر نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو پاکستان کی برآمدات کیلئے لائف لائن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سہولت کے خاتمے سے ایکسپورٹس کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 2013 میں یورپی یونین سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل ہوا تھا، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں ترجیحی رسائی ملی اور یہ سہولت 2023 کے بعد دوبارہ 2027 تک بڑھا دی گئی ہے ، پاکستان اس پروگرام کے تمام تقاضوں اور اسٹینڈرڈز کو پورا کر رہا ہے ۔ثاقب فیاض مگوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت یورپی یونین میں پاکستان کے خلاف تجارتی سازشوں میں مصروف ہے اور جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اگر پاکستان سے یہ درجہ واپس لیا گیا تو ملکی برآمدات کا حجم بری طرح متاثر ہوگا جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار، روزگار اور زرمبادلہ ذخائر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے جی ایس پی پلس کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے ۔ نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت سخت معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے ، ایسے میں جی ایس پی پلس کا برقرار رہنا انتہائی اہم ہے ۔فیڈریشن قیادت نے حکومت پر زور دیا کہ معرکہ معیشت کے تحت جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اگر ایک صفحے پر آ جائیں تو تجارت اور معیشت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں