سعودی عرب اور یوکرین کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط

سعودی عرب اور یوکرین کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط

معاہدے کے تحت سعود ی عرب کو ایرانی ڈرونز سے دفاع کیلئے صلاحیتیں فراہم کی جائیں گی:حکام سعودیہ کی صلاحیتیں بھی یوکرین کیلئے اہم ہیں ،باہمی تعاون فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے :زیلنسکی

ریاض (اے ایف پی)یوکرینی صدر زیلنسکی نے سعودی عرب کے دورے کے دوران فضائی دفاع کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، دو سینئر حکام نے اے ایف پی کو بتایاکہ کیف نے روسی ڈرونز کو مار گرانے میں اپنی مہارت کو خلیجی ممالک کی مدد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش  کی ہے ، جو انہی ایرانی ساختہ "شاہد" ڈرونز کے ذریعے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں جو روس یوکرین پر فائر کرتا ہے ۔ایک اہلکار کے مطابق معاہدے کا مقصد یہ ہے کہ یوکرین ان کی فضائی دفاع کی تمام ضروری صلاحیتیں فراہم کرنے میں تعاون کرے ، جو اس وقت ان کے پاس موجود نہیں ہیں۔یوکرین نے سستے ڈرون انٹرسپٹرز، الیکٹرانک جیمنگ آلات اور اینٹی ایئرکرافٹ گنوں کا استعمال کرتے ہوئے چار سال سے مسلسل روسی ڈرونز کو مار گرایا ہے اور اپنے دفاع کو دنیا کا بہترین قرار دیتا ہے ۔معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف انٹرسپٹرز کی فراہمی شامل ہے بلکہ ایک مکمل نظام کی تیاری، دیگر فضائی دفاعی اجزا کے ساتھ انضمام، یوکرینی تجربہ، مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیٹا تجزیہ کے عناصر بھی شامل ہیں۔

جو شاہد اور دیگر ڈرونز کا مو ٔ ثر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے "دفاعی تعاون پر اہم معاہدہ" کیا اور انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہم اپنی مہارت اور نظام سعودی عرب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جو یوکرین کے لیے اہم ہیں، اور یہ تعاون باہمی فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے ۔صدر زیلنسکی نے یہ نہیں بتایا کہ معاہدے کے تحت واضح طور پر کیا طے پایا ہے ۔ انہوں نے سعودی عرب میں تعینات یوکرینی اینٹی ڈرون ماہرین سے بھی ملاقات کی جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے جوابی ڈرون اور میزائل حملوں کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں