گھریلو ملازمہ کے قتل پرمجرم کوعمر قید شریک ملزمہ شک کا فائدہ دیکر بری

  گھریلو ملازمہ کے قتل پرمجرم کوعمر قید شریک ملزمہ شک کا فائدہ دیکر بری

کراچی (سٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی ارشاد حسین نے گھریلو ملازمہ کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے شریک ملزمہ کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد، ڈی این اے رپورٹ اور دیگر فرانزک مواد کی بنیاد پر ملزم محمد فیاض کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے ، جبکہ شریک ملزمہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ مقدمے کے مطابق مقتولہ انصر بی بی 28 اکتوبر 2020 کو ڈیفنس فیز VII میں کام پر جاتے ہوئے لاپتہ ہوئی تھیں، بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں رکشہ ڈرائیور محمد فیاض کے ساتھ جاتے دیکھا گیا، جبکہ مقتولہ کے بھائی نے 4 نومبر 2020 کو اغواء کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی نشاندہی پر ابراہیم حیدری کے قریب سے لاش کے ڈھانچے ، کپڑے اور آلہ قتل برآمد کیے گئے ، جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ برآمد شدہ باقیات مقتولہ کی ہی ہیں۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے شریک ملزمہ کے اکسانے پر قتل کیا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شریک ملزمہ کے خلاف کوئی آزاد اور قابل قبول شہادت موجود نہیں، اس لیے اسے شک کا فائدہ دیا جاتا ہے ۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے خلاف آخری بار مقتولہ کو اس کے ساتھ دیکھے جانے ، لاش کی برآمدگی، فرانزک شواہد اور دیگر حالات نے ایک مکمل اور مربوط سلسلہ تشکیل دیا جو اس کے جرم کی نشاندہی کرتا ہے ۔ عدالت نے ملزم محمد فیاض کو قتل کے جرم میں عمر قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک سال قید بھگتنے کا حکم دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں