علی ظفر کے میشا شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوے پر فیصلہ محفوظ
8سال میں 9جج تبدیل،283پیشیوں میں 20گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے ہراسانی کے ثبوت میں ایک بھی گواہ نہیں، خاتون کی اپنی گواہی تسلیم کی جاسکتی:وکلا
لاہور (محمد اشفاق )ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے 8سال بعد گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر میشا شفیع کے خلاف دائر 100کروڑ روپے کے ہتک عزت کے دعوے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اس دوران 9جج تبدیل ہوئے جبکہ 283 پیشیوں میں 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ۔ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے پر سماعت کی،اس دوران علی ظفر اور میشا شفیع کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے ، علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے دلائل میں کہا میشا شفیع نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر کے شہرت کو نقصان پہنچایا، جنسی ہراسانی کا الزام ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک گواہ موجود نہیں ہے ، لہذا عدالت میشا شفیع کو ایک ارب ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے ، میشاشفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ علی ظفر نے میشا شفیع کو جنسی طور پر ہراساں کیا جس کے بعد میشا نے علی ظفر کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا،جنسی ہراسانی کا کوئی گواہ نہیں ہوتا صرف ایک ٹراما ہوتا ہے جس سے متاثرہ خاتون گزرتی ہے ، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق جنسی ہراسانی کے کیس میں متاثرہ خاتون کی گواہی بھی تسلیم کی جاسکتی ہے ۔ میشا شفیع کے وکیل نے علی ظفر کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کی ۔عدالت نے وکلاکے دلائل اور گواہوں کے بیانات اور جرح کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ۔علی ظفر اپنے حق میں 13 جبکہ میشا شفیع نے 7 گواہ پیش کئے جبکہ ہتک عزت کے دعوے کی آٹھ برسوں میں 283 پیشیاں ہوئی جبکہ اس دوران 9 ججز کا تبادلہ ہوا ، علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔