فلسطینیوں کو سزائے موت کا اسرائیلی قانون قابل مذمت، عالمی برادری نوٹس لے: وزرائے خارجہ اسلامی ممالک
اسلام آباد(وقائع نگار، اے پی پی)پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض طاقت کی اپنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں منظور اس قانون کی سخت مذمت کی ہے۔۔۔
جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دی گئی ہے اور اس کا عملی اطلاق فلسطینیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بڑھتی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو جو نسل پرستی (اپارتھائیڈ)پر مبنی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بلکہ ان کے وجود سے بھی انکار کرتی ہیں۔ یہ قانون خطرناک پیشرفت ہے کیونکہ اس کا اطلاق امتیازی طور پر فلسطینی قیدیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ وزراء نے متنبہ کیا ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی مزید بڑھا سکتے اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اعلامیے میں اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے معتبر رپورٹس کے حوالے سے خبردار کیا کہ قیدیوں کو تشدد، غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے ۔ وزراء نے زور دیا کہ قابض طاقت کی جانب سے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو زمینی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ استحکام برقرار رکھنے اور صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے اپنی کوششیں تیز کرے۔