ایکسپائرڈ اورمتوفی افراد کے شناختی کارڈز پر 96 لاکھ سمز فعال

ایکسپائرڈ اورمتوفی افراد کے شناختی کارڈز پر 96 لاکھ سمز فعال

بینک اکاؤنٹس، سمز، جائیداد منتقلی اور سرکاری خدمات متاثر ہونے کا خدشہ متوفی رشتہ داروں کے نام رجسٹرڈ سمز فوری اپنے نام منتقل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) پاکستان میں 96لاکھ سمز ایکسپائرڈ شناختی کارڈز اور متوفی افراد کے نام پر فعال ہیں جس پر نادرا نے شہریوں کو فوری تجدید اور سمز منتقلی کی ہدایت دی ہے ۔ ایکسپائرڈ شناختی کارڈ رکھنے والوں کے بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز، جائیداد منتقلی اور سرکاری خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے ،نادرا نے بروقت تجدید یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔نادرا کے مطابق 45لاکھ ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر 81لاکھ سمز فعال ہیں جبکہ 15لاکھ سمز متوفی افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متوفی رشتہ داروں کے نام پر رجسٹرڈ سمز فوری اپنے نام منتقل کریں تاکہ موبائل سروسز بلاک نہ ہوں اور بینک اکاؤنٹس، جائیداد کی منتقلی اور دیگر قانونی و مالی سہولیات متاثر نہ ہوں۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے پر شہری مختلف سرکاری و فلاحی پروگراموں، جیسے بینظیر انکم سپورٹ اور فیول سبسڈی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ جون کے بعد تاخیر پر اضافی فیس اور جرمانے عائد ہونے کا امکان ہے ۔پی ٹی اے کے قواعد کے مطابق فعال شناختی کارڈ کے بغیر موبائل سمز بلاک کی جا سکتی ہیں، اس لیے شہری نادرا مراکز، پاک آئی ڈی ایپ یا ای سہولت فرنچائز کے ذریعے فوری تجدید یقینی بنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں