مذاکرات کی کامیابی دنیا میں امن کا پیش خیمہ بن سکتی
امریکا چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ ہو جو اسے جنگ سے نکلنے میں مدد دے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان کی جانب سے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے میزبانی کی پیشکش دراصل پاکستان کی جانب سے مسائل کے سیاسی حل کیلئے مذاکراتی آپشن کو بروئے کار لانے اور اس کے نتیجہ خیز بنانے کا عزم ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ جنگ و جدل مسائل کا حل نہیں بلکہ اس میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور اگر ملکوں کا اپنے ایشوز کے حوالہ سے حقیقت پسندانہ طرز عمل اور ایشوز پر اپنا کوئی سیاسی کیس ہو تو مذاکرات کو بروئے کار لا کر سرخرو ہوا جا سکتا ہے ۔امریکا اور ایران میں مذاکراتی عمل کی کامیابی دنیا بھر میں عالمی امن کے قیام اور معاشی مسائل کے حل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ امریکا ایران کے درمیان تناؤ کے حل کے لئے پاکستان سرگرم کیوں ہے اور اس کی جانب سے ثالثی کوششیں نتیجہ خیز بن سکتی ہیں۔
جرمنی، کینیڈا اور دیگر ممالک کی لیڈر شپ کی ٹیلی فون کالز گواہ ہیں۔یورپی یونین کا کہنا ہے مشرق وسطٰی میں جنگ کا حل صرف سفارتکاری ہے ۔برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بھی امریکا ایران پر مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا ہے اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کے حوالہ سے زیادہ مثبت نتائج سامنے نہ آ سکے لیکن میزائل حملوں اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے سائے میں اعلیٰ سطح کی گفتگو بذات خود ایک غیر معمولی واقعہ ہے 21گھنٹوں کا مذاکراتی عمل بتاتا ہے کہ ایجنڈا وسیع ہے ۔دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کی رائے میں اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت نہ صرف تاریخی رہی بلکہ یہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے مذاکرات میں زیر بحث آنے والے معاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ ہو جو اسے جنگ سے نکلنے میں مدد دے مذاکرات کی نتیجہ خیزی نہ ہونے پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لئے دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دوسرا مرحلہ قریب تر آئے اور اب ایسے امکانات نظر آ رہے ہیں کہ عالمی دباؤ اور دوطرفہ تحریک کے باعث مذاکرات کا دوسرا مرحلہ زیادہ دور نہیں۔
اب خود امریکی میڈیا بھی اس امر کی تصدیق کرتا نظر آ رہا ہے کہ پاکستان نے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جو جلد متوقع ہے ۔اب بھی حالات واقعات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو گی اور فریقین میں مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی میں اسلام آباد کاکردار اہم ہوگا ۔ پاکستان نے اپنے ذمہ دارانہ طرز عمل اور غیر جانبدارانہ کردار سے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہے ۔ یہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آنے والے برسوں میں طاقت کا توازن کس کے ہاتھ میں ہوگا اور دنیا کشیدگی کی طرف جائے گی یا مستقل امن رہے گا ۔اطلاعات یہ ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ زیادہ دور نہیں بلکہ اس حوالہ سے آنے والے چند روز اہم ہیں ان کا انعقاد 21اپریل سے پہلے ہو سکتا ہے کیونکہ پندرہ روز جنگ بندی 21اپریل کو ختم ہوگی اور جنگ بندی کا یہ عمل آگے بڑھنا ہے جس پر اصولی اتفاق بھی نظر آ رہا ہے ۔ ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ بلاشبہ مذاکراتی عمل وہی کارگر اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جس میں تسلسل قائم رہے اور طے شدہ امور پر دوبارہ غورکرنے کی نوبت نہ آئے ۔خود امریکا بھی تسلیم کر رہا ہے کہ زیادہ نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے تو اب بات صرف دو تین نکات پر اٹکی نظر آ رہی ہے ۔