ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں : صدر زرداری
لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہو تو مکمل شفافیت کیساتھ کی جائے ،صدر کا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار شارٹ فال 4500میگاواٹ،8سے 16گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ،ترجمان پاور ڈویژن کی معذرت،بجلی کم استعمال کرنیکی اپیل ،گیس نایاب ،پانی سپلائی ،انٹرنیٹ سروس بھی متاثر
اسلام آباد (اے پی پی)صدرِ آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں آبی وسائل کے انتظام سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں پانی کی دستیابی، گورننس اور پاکستان کی آبی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،صدرِ مملکت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ایک سنگین معاملہ ہے ، صدر نے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ضروری سفارتی اور قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں،علاقائی صورتحال کے باعث توانائی کے بحران کے تناظر میں صدر مملکت نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہو تو اسے مکمل شفافیت کے ساتھ اور پیشگی اعلانات کے مطابق کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت آگاہی حاصل ہو اور مشکلات میں کمی آئے۔
صدر آصف علی زرداری نے ملک بھر میں پانی کے تحفظ کے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے گھریلو، تجارتی اور صنعتی سطح پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں کے فوری نفاذ پر زور دیا جبکہ چھوٹے ڈیمز، ری چارج ویلز اور پانی ذخیرہ کرنے کے دیگر منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات میں پانی کا تحفظ قومی ضرورت بن چکا ہے ۔ اجلاس میں وسیع تر علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان کی تعمیری شمولیت اور مسلسل کوششوں سے ایران کے حوالے سے ابھرتی ہوئی صورتحال میں ایک قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال ، وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور و بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثنا اللہ ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر شیری رحمان، سیکرٹری آبی وسائل، چیئرمین واپڈا اور پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹر نے شرکت کی۔
لاہور،اسلام آباد،راولپنڈی ( اپنے کامرس رپورٹر سے ، نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں )ملک بھر میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہری شدید اذیت کا شکار ہوگئے ،بجلی کی بندش کے ساتھ گیس ،پانی کی عدم فراہمی اور انٹرنیٹ سروس میں رکاوٹ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ترجمان پاور ڈویژن نے زیادہ لوڈ مینجمنٹ پرمعذرت کی ہے ،تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عروج پر پہنچ گئی ، جس نے گرمی کی لہر میں شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں صورتحال سب سے زیادہ ابتر ہے ، جہاں شارٹ فال ایک ہزار میگاواٹ سے زائد ہو گیا ہے ۔لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کے بحران کی وجہ سے پیداوار میں کمی آئی ہے ، جس کے باعث شہری اور دیہی علاقوں میں 5 سے 8 گھنٹے کی عارضی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے حکام نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آر ایل این جی ، ہائیڈرو اور فرنس آئل کی کمی بجلی کی پیداوار میں رکاوٹ کا باعث ہے ۔ ادھر ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ منگل کی رات پن بجلی کی پیداوار میں 1991 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اعلانیہ سے کچھ زیادہ لوڈ مینجمنٹ کی،بجلی کی صورتحال پر جاری بیان میں ترجمان نے کہاکہ منگل کی رات پیک ٹائم میں تقریبا ً4500 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا، ترجمان نے کہا کہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کی بدولت پانی کا اخراج کم ہے ، آنے والے چند دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کا امکان ہے جس سے بجلی کی پیداوار بھی بڑھے گی۔ ترجمان نے کہا کہ آر ایل این جی کی دستیابی سے بھی صورتحال میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پن بجلی کی کم دستیابی کی بنا پر اضافی لوڈمینجمنٹ پر معذرت خواہ ہیں۔ترجمان نے صارفین سے رات کے اوقات میں بجلی کو کم سے کم استعمال کرنے کی اپیل کی ہے ، دوسری طرف دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔
لیسکو ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں سولر کے باعث طلب میں کمی ہوتی ہے ، شام ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے ، رات کے اوقات میں لیسکو کی طلب 2900میگاواٹ تک پہنچ گئی، ملتان اور جھنگ بھی غیر اعلانیہ اور طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان نظر آ رہے ہیں۔ملتان کے شہری علاقوں میں 8سے 10گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جانے لگی ہے ، لائن لاسز والے فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید 2گھنٹے اضافہ کر دیا گیا، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ، میپکو کو ایک کروڑ 10لاکھ صارفین کے لئے 2000میگا واٹ بجلی درکار ہے ، جھنگ میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12گھنٹے سے تجاوز کر گیا، بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث لاہور سمیت دیگر شہروں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہوگیا ہے ، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ذرائع کے مطابق آر ایل این جی ہائیڈرو اور آئل کی قلت کے باعث زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ،بجلی کی بندش سے گھروں میں قائم چھوٹی انڈسٹری زیادہ متاثر ہو رہی ہے ۔
تاجروں کا کہناہے کہ ایک جانب حکومت نے رات آٹھ بجے مارکیٹیں بند کرنے کی پابندی عائد کر رکھی ہے ۔ دوسری جانب سار ادن بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کاروبار تباہ ہو رہاہے ،ہال روڈ، عابد الیکٹرونکس مارکیٹ اور فیروزپور روڈ کی مارکیٹوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے ۔تاجر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے اور ایک گھنٹہ بند ہو جاتی ہے ، جس کی وجہ سے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے گھریلو معاملات سمیت تمام کاروبار زندگی معطل کردیا بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ یکدم 8 سے 10 گھنٹے ہو جانے کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ، راولپنڈی ڈویژن میں شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اس کے برعکس 24 گھنٹوں میں بار بار غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا جینا محال کردیا،متاثرہ علاقوں کے صارفین نے احتجاجی تحریک کے ذریعے واپڈا دفاتر کے گھیراؤکے ساتھ اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت اہم شاہراہوں پر دھرنوں کی دھمکی دے دی۔
اسلام آباد ایکسپریس وے سے متصل کھنہ ایسٹ، کھنہ ڈاک، مدینہ ٹاؤن، قطبال ٹاؤن، مدنی ٹاؤن، راجہ نصیب اللہ ٹاؤن، سوہان اور نورٹاؤن جبکہ راولپنڈی میں فیض آباد، شکریال، ڈھوک کالا خان، مسلم ٹاؤن، صادق آباد، نیوکٹاریاں، خیابان سرسید، ٹیپو روڈ، سرسید چوک، ڈھوک الٰہی بخش، ڈھوک کھبہ، اڈیالہ روڈ، چاکرہ سمیت شہر بھر کے صارفین کے مطابق بعض علاقوں میں ہر 2 گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لئے بجلی کی سپلائی مکمل بند کر دی جاتی ہے ، اس حوالے سے آئیسکو ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی ایل این جی سے بجلی کی پیداوار 3600 میگاواٹ تک کم ہوگئی ہے جبکہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی متاثر ہوئے ہیں اس سے پاور پلانٹس کی سپلائی متاثر ہونے سے 1200 میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ہے ،فرنس آئل سے بجلی کی 1500 میگاواٹ پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے اور بجلی کا مجموعی شارٹ فال 3500 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے ، بجلی کی طلب 14 ہزار میگاواٹ اور پیداوار 10 ہزار 500 میگاواٹ ہے ،ملک بھر میں بجلی کے بحران کے ساتھ انٹرنیٹ سروس میں بھی خلل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، جس کے باعث صارفین کو خصوصاً شام کے اوقات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ شام بھی ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی بری طرح متاثر رہی، پی ٹی سی ایل کے ترجمان اور متعلقہ حکام نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بین الاقوامی کنسورشیم نے سمندر کے نیچے موجود میرین کیبل کی مرمت کا کام شروع کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ حکام کے مطابق مرمتی عمل 20 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے ، جس کے دوران شام کے اوقات میں انٹرنیٹ کی رفتار سست رہ سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں لاہور میں گیس کی لوڈشیڈنگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ سسٹم میں قلت کے باعث گیس پریشر بھی شدید متاثر ہو گیا ہے ، گیس کی کمی کے باعث دوپہر کے اوقات میں مکمل بندش کی جا رہی ہے جبکہ صبح اور شام کے اوقات، جو کھانا پکانے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، ان میں بھی پریشر انتہائی کم ہو گیا ہے ۔سوئی ناردرن گیس کمپنی شہریوں کو کھانا پکانے کے اوقات میں بھی مناسب پریشر کے ساتھ گیس فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے ،شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لائی جائے تاکہ روزمرہ زندگی معمول پر آ سکے ۔