ٹرمپ کا ایران پر دباؤ سخت، خطے کی صورتحال مزید کشیدہ
امریکی صدر کے اقدامات سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہونے لگا
(تجزیہ:سلمان غنی)
ایران کی جانب سے مذاکراتی عمل کی بحالی کے حوالے سے لچک نہ دکھانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ مسلسل سخت ہوتا جا رہا ہے ، ان کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مبینہ ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان نے نہ صرف مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے بلکہ خطے میں مجموعی صورتحال کو مزید کشیدہ بھی بنا دیا ہے ۔ یہ پیشرفت عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے اور دنیا کے اہم ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے اور ناکہ بندی جیسے اقدامات پر نظرثانی کی جائے ۔اس تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ظاہر کرتا ہے ، اس کے مذاکراتی عمل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ، ایران اپنے موقف میں لچک کیوں نہیں دکھا رہا، اور امریکا کا جارحانہ طرزِ عمل کس حد تک عملی حکمت عملی میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہے کہ یہ دنیا کی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد راستہ ہے ۔ اس مقام پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا مطلب براہ راست عالمی توانائی منڈی، ایران کی معیشت اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ہے ۔ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے ۔دوسری جانب یہ امر بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سفارتی رابطے مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہے ، جس کے باعث امریکی قیادت میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔ اسی تناظر میں نہ صرف ناکہ بندی برقرار رکھنے بلکہ عسکری کارروائیوں میں اضافے اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے جیسے اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو رہی ہے ،تاہم ایران کی جانب سے بھی کسی واضح لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ تہران مذاکرات کی بات کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے پر بھی مصر ہے ۔ پاسدارانِ انقلاب کے بعض بیانات میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو خطے کی تیل کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ۔ایران نے نہ صرف امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کی توسیع کی تجویز کو مسترد کیا ہے بلکہ اسے ممکنہ فوجی کارروائی کیلئے وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی قرار دیا ہے ۔
ایرانی حلقوں کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنی خودمختار حکمت عملی کے تحت فیصلے کرے ۔اسی طرح ایران کی اصلاح پسند قیادت بھی دباؤ میں دکھائی دیتی ہے ۔ صدر مسعود پزشکیان اگرچہ مذاکرات کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں، تاہم وہ امریکا پر معاہدوں سے انحراف اور عدم اعتماد کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔دوسری جانب امریکی موقف کے باوجود بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مکمل جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کے امکانات محدود ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات کو محض سخت سیاسی دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے ، تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے ،تاہم عسکری ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ امریکا طویل جنگ کی صورت میں اسلحے اور میزائل ذخائر کے دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے ۔ بعض رپورٹس کے مطابق حالیہ تنازع کے دوران امریکی میزائلوں کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال ہو چکا ہے ، جس سے مستقبل میں دفاعی صلاحیت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ایران کے حوالے سے یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ وہ دہائیوں سے پابندیوں اور تنہائی کے باوجود اپنے اندر ایک مزاحمتی اور متبادل معاشی و سفارتی نظام تشکیل دے چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شدید دباؤ کے باوجود مکمل پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔
اس کی حکمت عملی عموماً دباؤ بڑھانے مگر مکمل بند گلی سے بچنے پر مبنی رہی ہے ، تاکہ تنازع کو طول دیا جا سکے مگر خطہ مکمل جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے ۔اسی مجموعی صورتحال میں عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے اور مختلف طاقتیں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان بھی اس تناظر میں پسِ پردہ سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ایوانِ وزیراعظم میں ایرانی اور چینی سفیروں سے ملاقاتوں کو اسی سفارتی سلسلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ۔تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ آبنائے ہرمز کا مسئلہ اب محض علاقائی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی تنازع کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس کا حل براہ راست فریقین کے درمیان یا کسی بڑے عالمی دباؤ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اس پورے منظرنامے میں پاکستان سمیت بعض علاقائی قوتیں ثالثی کے کردار کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم حتمی پیشرفت کا انحصار امریکا کے طرزِ عمل اور ایران کی پالیسی میں ممکنہ لچک پر ہوگا۔ صورتحال کا تقاضا یہی ہے کہ فریقین تصادم کی بجائے مذاکرات کی طرف واپس آئیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی کے اثرات صرف انہی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اور توانائی نظام کو متاثر کریں گے ۔