پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 11سال بعد بھی غیریقینی کاشکار
مہنگائی اور عوامی ناراضی کے باعث کئی ارکان اسمبلی کاالیکشن سے گریز کامشورہ
تجزیہ:سلمان غنی
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات تاحال سیاسی طور پر ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ صوبے میں آخری بار بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے اور اب 11 برس گزرنے کے باوجود پنجاب اس عمل سے محروم نظر آتا ہے ۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم رہیں، مگر بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے ۔اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کے مطابق بلدیاتی انتخابات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں اور ہر صورت رواں برس کرائے جائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ بھی متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ وہ بلدیاتی اداروں کے قیام کے ذریعے نچلی سطح پر اختیارات منتقل کر کے نظام کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں، تاہم اس کے باوجود انتخابات کا انعقاد بدستور سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اور حکومت کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔
الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر دیا ہے ، جو آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے ۔ اس کے بعد انتخابی شیڈول جاری ہونے کی توقع کی جا رہی ہے ۔دوسری جانب پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پہلے ہی عدالتوں میں چیلنج کیا جا چکا ہے ۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتیں اسے آئین سے متصادم قرار دے رہی ہیں اور بنیادی ترامیم کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حالیہ سماعت میں عدالت نے بھی حکومت سے قانون میں آئینی تقاضوں کے مطابق تبدیلی نہ کرنے کی وجوہات دریافت کیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے اور یونین کونسل سطح پر براہ راست ووٹنگ کا نظام اپنایا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس یقین دہانی پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہے۔
سیاسی اور معاشی حالات بھی اس معاملے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ مہنگائی اور عوامی ناراضی کے باعث حکومت کے لیے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے ۔ بعض ارکان اسمبلی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات سے گریز کیا جائے ۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ انتخابات کی صورت میں حکومت مضبوط پوزیشن میں ہو۔اہم بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر تینوں صوبوں میں بلدیاتی نظام فعال ہے جبکہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے اور آیا الیکشن کمیشن اس معاملے میں صوبائی حکومت کو جواب دہ بنا پاتا ہے یا یہ معاملہ بدستور التوا کا شکار رہتا ہے۔