ایران جنگ : ٹرمپ کو ناکامی کا سامنا : 2 ماہ گزرنے کے باوجود واضح فوجی کامیابی ملی نہ سفارتی، ری پبلکن امیدواروں کو شکست کا خوف دوبارہ جنگی کارروائی کا دروازہ کھلا ہے، وائٹ ہائوس
ایران ٹوٹا نہ جھکا وقت لینا چاہتا، جب چاہے آبنائے ہرمز بند کرسکتا، افزودہ یورینیم اب بھی زیر زمین، بغاوت کی اپیل بے اثر،مذاکرات سے فوری حل کا امکان کم،ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کیلئے دباؤ یکطرفہ فتح کے اعلان پر غور،ٹرمپ ناقص معاہدے پر راضی ہوسکتے :عرب سفارتکار،امریکی فوج بحری قزاقوں کی طرح کام کر رہی:امریکی صدر،دوبارہ لڑائی کا اندیشہ،پہلے سے زیادہ تیار:ایرانی فوج
واشنگٹن (رائٹرز)دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تنازع نہ تو کوئی واضح فوجی کامیابی دے سکا ہے اور نہ ہی سفارتی، جس کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کا خطرہ لاحق ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی غیر معینہ مدت تک طول پکڑ سکتی ہے اور اس جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں امریکا اور دنیا کیلئے مزید بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ چونکہ دونوں فریق بظاہر اس بات پر پراعتماد ہیں کہ برتری ان کے پاس ہے اور ان کے مؤقف ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں، اس لئے اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا، حالانکہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے ایک نئی تجویز پیش کی ہے ۔ تاہم، ٹرمپ نے جمعہ کے روز اسے فوری طور پر مسترد کر دیا۔امریکی صدر اور ان کی ریپبلکن پارٹی کیلئے اس جاری تعطل کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔اگر یہ تنازع حل نہ ہو سکا تو اس کا مطلب ممکنہ طور پر عالمی معیشت پر منفی اثرات کا تسلسل ہوگا، جن میں امریکا میں پٹرول کی بلند قیمتیں بھی شامل ہیں، اس سے ٹرمپ پر مزید دباؤ بڑھے گا، جن کی مقبولیت پہلے ہی کم ہو رہی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کے امکانات بھی متاثر ہوں گے ۔
یہ جنگ ٹرمپ کے بیان کردہ کئی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔اگرچہ اس بات میں زیادہ شک نہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی لہر نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ، لیکن ٹرمپ کے اکثر بدلتے جنگی اہداف، جن میں حکومت کی تبدیلی سے لے کر ایران کے ایٹمی ہتھیار تک رسائی کو روکنا شامل ہے ، اب تک پورے نہیں ہو سکے ۔طویل تعطل کے خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے مذاکرات کاروں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا اور پھر ایران کی اس پیشکش کو بھی مسترد کر دیا جس میں 8 اپریل سے جنگ بندی معاہدے کے تحت معطل جنگ کو روکنے کی بات کی گئی تھی۔تہران نے تجویز دی تھی کہ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک تنازع باضابطہ طور پر ختم نہ ہو جائے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر کوئی معاہدہ طے نہ پا جائے ۔ تاہم، ٹرمپ کیلئے یہ قابل قبول نہیں تھا، کیونکہ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جوہری مسئلے کو ابتدا ہی میں حل کیا جائے ۔جمعہ کے روز کچھ امید کی کرن اس وقت نظر آئی جب ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی کہ تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایک نظرِ ثانی شدہ تجویز بھیجی ہے ، جس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی، جو اس وقت تیزی سے بڑھ گئی تھیں جب ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیلیفون کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔تنازعے کے اختتام پر ایران کے کنٹرول سے اس اہم تیل بردار آبی گزرگاہ کو واپس نہ لے پانا ٹرمپ کی میراث کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔واشنگٹن کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی مشرقِ وسطٰی کی ماہر لورا بلومن فیلڈ نے کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے امریکی صدر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے دنیا کو کم محفوظ بنا دیا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ فوجی اور معاشی دباؤ کے باعث ایران کی بے بسی بڑھ رہی ہے ،ٹرمپ تمام پتے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور بہترین معاہدہ کرنے کیلئے ان کے پاس جتنا وقت درکار ہو، موجود ہے ۔کیا دوبارہ جھڑپیں شروع ہوں گی؟،اپنے آئندہ اقدامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور کسی واضح حکمت عملی کے نہ ہونے کے باعث ایک وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے نجی ملاقاتوں میں ایران کے خلاف طویل بحری ناکہ بندی کے امکان پر بھی بات کی ہے ، جو ممکنہ طور پر مزید کئی ماہ جاری رہ سکتی ہے ۔ اس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو مزید محدود کرنا اور اسے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے معاہدے پر مجبور کرنا ہے ۔اسی دوران ٹرمپ نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ نے مختصر اور طاقتور حملوں کی ایک ممکنہ سیریز کیساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کچھ حصے کا کنٹرول سنبھال کر اسے بحری آمد و رفت کیلئے دوبارہ کھولنے کے منصوبے بھی تیار کرلئے ہیں، جیسا کہ جمعرات کوایکسِیوس نے رپورٹ کیا۔یورپی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومتیں جن کے ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اس جنگ کے باعث کشیدہ ہو چکے ہیں، توقع رکھتی ہیں کہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔ایک سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ یہ معاملہ جلد کیسے ختم ہوگا۔ واشنگٹن میں سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے جون آلٹرمن نے کہا کہ ایران نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کمزور حالت میں بھی وہ جب چاہے آبنائے کو بند کر سکتا ہے ۔ یہ حقیقت ایران کو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتی ہے ۔ ٹرمپ جو اقتدار میں آتے وقت بیرونی مداخلتوں سے بچنے کا وعدہ کر چکے تھے ، 28 فروری کو ایران پر حملے کے اپنے بنیادی مقصد کو بھی حاصل نہیں کر سکے ، یعنی ایران کے جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کے راستے کو بند کرنا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ انتہائی افزودہ یورینیم کا ایک ذخیرہ اب بھی زمین کے اندر محفوظ ہے ، جو گزشتہ جون میں امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد باقی رہ گیا تھا، اور جسے دوبارہ حاصل کر کے مزید پراسیس کر کے ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے امریکا اس کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے ، جسے وہ پرامن مقاصد کیلئے قرار دیتا ہے ۔ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگی اہداف میں ایک اور مقصد ایران کو لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور فلسطینی حماس جیسے اتحادی گروہوں کی حمایت سے روکنا، بھی تاحال پورا نہیں ہو سکا۔بڑھے ہوئے اختلافات کے پیشِ نظر امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے فوری حل نکلنے کا امکان کم نظر آتا ہے ۔اگرچہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران سے لاحق خطرے کے خاتمے کیلئے ایک طویل مدتی حل سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے ، لیکن بعض اوقات انہوں نے ایک غیر مقبول جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کے آثار بھی دکھائے ہیں۔
امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کے معاونین کی درخواست پر انٹیلی جنس ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر وہ یکطرفہ فتح کا اعلان کر کے پیچھے ہٹ جائیں تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا۔آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق تہران اسے اپنی سٹریٹجک کامیابی سمجھے گا کہ وہ فوجی حملوں کے باوجود قائم رہا۔اسی دوران یورپی اور خلیجی عرب سفارتکاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر آخرکار ایک ایسے ناقص معاہدے پر رضامند ہو سکتے ہیں جو ایک کمزور مگر اب بھی خطرہ بنے رہنے والے ایران کو برقرار رہنے دے ۔ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایک منجمد تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے ، جس کا کوئی مستقل حل نکلنا مشکل ہوگا۔ ایسی صورتحال ٹرمپ کو مشرقِ وسطٰی میں اپنی افواج میں نمایاں کمی کرنے سے روک سکتی ہے ۔ٹرمپ کو اب ایک زیادہ سخت گیر ایرانی قیادت کا بھی سامنا ہے ، جس پر پاسداران انقلاب کا غلبہ ہے ۔
یہ قیادت اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں کئی اہم شخصیات بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے ۔تنازع کے آغاز پر ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ٹرمپ کی اپیل بھی بے اثر رہی۔اندرونِ ملک ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے ، جس نے ان کی مقبولیت کو ان کی مدت کے دوران سب سے نچلی سطح یعنی 34 فیصد تک گرا دیا ہے ، جیسا کہ رائٹرز/ایپسوس کے ایک سروے میں ظاہر ہوا۔ اس کے ساتھ ہی وسط مدتی انتخابات سے قبل جن میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا کنٹرول کھونے کا خطرہ ہے ، پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے بھی اوپر جا چکی ہیں۔ ایرانی قیادت ٹرمپ کے اندرونی سیاسی مسائل سے باخبر ہے اور ممکن ہے کہ وہ وقت گزارنے کی حکمت عملی اپنائے ، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کب تک معاشی بحران کو ٹال سکتے ہیں۔واشنگٹن میں سنٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر فیلو سینا توسی نے ایکس پر لکھا کہ ایران نہ تو ٹوٹ رہا ہے اور نہ ہی جھک رہا ہے ، بلکہ وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے نفاذ کیلئے بحری قزاقوں کی طرح کام کر رہی ہے ۔اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں لیکن امریکی فوجی پوزیشن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی،امریکی بحریہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں اور بحری آمد و رفت کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز کو تحویل میں لینے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہم نے جہاز کو تحویل میں لیا، اس کا سامان حاصل کیا اور تیل پر بھی قبضہ کیا، یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے ،ہم قزاقوں کی طرح ہیں تقریباً انہی جیسے ، لیکن ہم کھیل نہیں کھیل رہے ۔وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کیلئے آمادہ ہو گیا ہے ،تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی قسم کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے مذاکرات میں ہونیوالی پیشرفت سے آگاہ کیا اورکہا دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔جبکہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ایران نے نئی تجویز پاکستان کے حوالے کی ہے ، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا کشیدگی کو جاری رکھے ۔ ایران کے ایک سینئر فوجی افسر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا اندیشہ ہے ۔پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا ئسنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی نے کہا ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان ہے ،شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کسی بھی وعدے یا معاہدے پر قائم نہیں رہتا۔ جعفر اسدی کے مطابق امریکی حکام کے اقدامات اور بیانات کی زیادہ تر نوعیت میڈیا سے متعلق ہے جن کا مقصد اول تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور دوم اُن مشکلات سے نکلنا ہے جو انہوں نے خود پیدا کی ہیں۔
جنرل جعفر اسدی نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کی تقریباً 2 ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر اپنی برتری اور کنٹرول کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ اس آبی خطے کو ایرانی عوام کیلئے ذریعۂ معاش ، قوت اور خطے کیلئے سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے گی۔ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر کے فرمان کے مطابق فوج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ آج ایرانی فوج پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور مضبوط ہے اور کسی بھی خطرے یا سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، سپریم لیڈر کی رہنمائی اور ایرانی قوم کی طاقت پر بھروسا کرتے ہوئے فوج اپنی تمام ذمہ داریاں جیسے ملک کی خودمختاری، سرحدوں کی حفاظت اور ایران کا تحفظ بہترین انداز میں انجام دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ 8 سالہ جنگ اور حالیہ جنگوں کے تجربات نے فوج کو یہ سکھایا ہے کہ اپنی دفاعی طاقت اور تیاری کو بڑھانا لازمی ہے تاکہ وہ ملک کے تحفظ میں اپنی ذمہ داری سنجیدگی کے ساتھ پوری کرے ۔