شیخوپورہ کرپشن سکینڈل،5ملزموں کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور
شیخوپورہ(نمائندہ دنیا،ڈسٹرکٹ رپورٹر)محکمہ مال شیخوپورہ کے مبینہ بڑے کرپشن سکینڈل میں گرفتار چار سرکاری ملازمین اور ایک وثیقہ نویس کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔
عدالت نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی استدعا منظور کرتے ہوئے پانچوں ملزموں رجسٹری برانچ کے کلرک رانا نذر اور اویس افضل کمبوہ، کمپیوٹر آپریٹرز فرحان شفیق اور ہمایوں خان اوروثیقہ نویس عاصم ہنجرا کا مزید ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا،ان کے علاوہ سابق تحصیلدار آصف جاوید ورک، ایک خاتون اور دیگر تین افراد کے خلاف کرپشن، جعلسازی، فراڈ اور سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل سمیت متعدد سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ، اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ رجسٹری برانچ میں عرصہ دراز سے مختلف کاموں کے باقاعدہ ریٹ مقرر تھے اور روزانہ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں کے معاملات میں سب رجسٹرار کی بجائے منظور نظر اہلکار بیانات قلمبند کرتے تھے ۔ رجسٹریوں پر مخصوص نشانات لگا کر مبینہ طور پر روزانہ 8 سے 10 لاکھ روپے رشوت وصول کی جاتی تھی، جو شام کو تقسیم کر دی جاتی تھی۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کا ایک ملازم بھی مبینہ طور پر بعض افسروں کی ملی بھگت سے رجسٹری برانچ میں کام کر رہا تھا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد حکومت پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ہیلتھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر محمد صدیق بلوچ کو تبدیل کر کے ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال میں تعینات کر دیا جبکہ اے پی ایم او گورنمنٹ نواز شریف ٹیچنگ ہسپتال لاہور ڈاکٹر محمد اختر کو سی ای او ڈی ایچ اے شیخوپورہ تعینات کر دیا ہے۔