نوازشریف متحرک،آزاد کشمیر الیکشن مہم میں شرکت کا اعلان
آزاد کشمیر کے لئے امیدواروں کے انٹرویو مکمل،گلگت بلتستان میں ٹکٹ جاری
اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر الیکشن کے لئے امیدواروں کے انٹرویو مکمل کر لئے جبکہ گلگت بلتستان میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیئے ۔ نوازشریف خود بھی متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے الیکشن مہم میں خود شرکت کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ لاہور میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت نواز شریف نے کی، اجلاس میں شہباز شریف، اسحاق ڈار،مریم نواز ، احسن اقبال ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، انجینئر امیر مقام، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، کیپٹن (ر) صفدر اور برجیس طاہر نے شرکت کی۔ نواز شریف نے کہا کہ میں کشمیریوں سے محبت کر تا ہوں اور آزاد کشمیر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں خود شرکت کروں گا، وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن)کی حکومت ہوگی۔ قبل ازیں نوازشریف نے آزادجموں وکشمیر کے 45 انتخابی حلقوں سے 206سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کئے ، بورڈ ارکان کی مشاورت سے دو سے تین روز میں حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے ۔
دریں اثنا نواز شریف نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس جاری کرتے ہوئے مختلف حلقوں میں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے ،جی بی اے ون گلگت ون سے شفیق الدین اور جی بی اے ٹو گلگت ٹو سے حافظ حفیظ الرحمٰن کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے ۔ جی بی اے تھری گلگت تھری سے محمد اقبال ،ہنزہ کے حلقہ جی بی اے سکس سے شہزادہ سلیم ،سکردو کے تین حلقوں سے اکبر خان، امتیاز حیدر خان اور اجمل حسین ،کھرمنگ سے سید محسن رضوی، شگر سے طاہر انہار شگری ،استور کے دو حلقوں سے فرمان علی ، رانا محمد فاروق ،دیامر کے چار حلقوں کے لیے عبد الوجد، انجینئر محمد انور، محمد زمان اور ملک کفایت الرحمٰن کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں ، غذر کے تین حلقوں سے ظفر محمد، عبدالجہان ، غلام محمد،گانچھے ون سے محمد ابراہیم ثنائی امیدوار ہوں گے ۔ ذ رائع کے مطابق نواز شریف کا جون کے وسط میں آزاد کشمیر جانے کا امکان ہے اور ان کے ساتھ مریم نواز بھی جاسکتی ہیں۔ شہباز شریف اور مریم نواز کے آزاد کشمیر میں جلسے بھی متوقع ہیں ۔ ن لیگ نے 2020 میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے 7 اور پی ٹی آئی سے ن لیگ میں شامل ہونے والے 2امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے ہیں جبکہ 4 حلقوں کا فیصلہ نہیں ہوسکا ۔