انمول پنکی لاہور کی نجی سوسائٹی میں 10ماہ سے رہائش پذیر
چھاپے کے وقت گھر میں ماں باپ دو بچے تھے ، گرفتاری کے بعد تالے 45ہزار کرایہ 9ہزار ایڈوانس دیا ،کرایہ نامہ طاہر کے نام پر تیار کرایا گیا رمضان میں راشن تقسیم کرتی، نیک خاتون کا روپ دھارا ہوا تھا، محلہ دار
لاہور (کرائم رپورٹر )منشیات سمگلر انمول عرف پنکی لاہور میں نواب ٹاؤن کے علاقے رائے ونڈ روڑ پر نجی سوسائٹی میں 10ماہ سے رہائش پذیر رہی،بڑی بڑی گاڑیوں میں یہاں پر لوگ آتے رہے ، سٹوڈنٹس کا بھی یہاں پر آنا جانا تھالیکن اسکے باوجود نواب ٹاؤن پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سے بے خبر رہے ۔انمول عرف پنکی کے کیس میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ،سامنے آنے والے کرائے نامے کے مطابق انمول عرف پنکی لاہور میں کرائے پر رہائش پذیر تھی ۔شہری جہانزیب اشرف سے 5 مرلے کا گھر کرائے پر لینے کیلئے پنکی نے 3 سو روپے والے سٹامپ پیپر پر 11 ماہ کا کرایہ نامہ اپنے نام کے بجائے طاہر نامی شخص کے نام پر تیار کرایا، پنکی یکم اگست 2025 سے لاہور والے گھر میں رہ رہی تھی ،ماہانہ کرایہ 45ہزار روپے طے ہوا جبکہ 90 ہزار روپے ایڈوانس دئیے گئے ، چھاپے کے وقت گھر میں پنکی کے ماں باپ اور 2 بچے بھی موجود تھے جبکہ پنکی کی گرفتاری کے بعد سے گھر کو تالے لگے ہوئے ہیں۔
محلہ داروں کا کہنا ہے کہ یہاں پر بڑی گاڑیوں میں لوگ آتے جاتے تھے ،بڑی بڑی گاڑیاں سارا سارا دن یہاں پر کھڑی رہتی تھیں،تین سے چار افراد گھر کے آگے بیٹھے رہتے تھے ،یہاں پر گرلز ہاسٹل بھی ہیں، اکثر یہاں پر سٹوڈنٹس لڑکیوں کا بھی آنا جانا تھا۔پنکی کے پاس ویگو ڈالا ہے ،اہل محلہ کے مطابق پنکی نے نیک خاتون کا روپ دھارا ہوا تھا،رمضان میں غریبوں میں راشن بھی تقسیم کرتی تھی، پنکی اس گھر میں بیٹھ کر لاہور اور دیگر صوبوں میں منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی مگر نواب ٹاؤن تھانہ، سی سی ڈی پولیس پنکی کی سرگرمیوں سے بے خبر رہی،تاحال اعلیٰ پولیس افسروں نے تھانہ پولیس کی غفلت پر کوئی نوٹس نہیں لیا ۔وہ ایس ایچ او جو یہاں پر تعینات رہے ، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔