مستونگ گودام میں آگ لگی نہیں لگائی گئی، اربوں کا نقصان، تحقیقات کرائی جائیں : بلوچستان اسمبلی ارکان

مستونگ گودام میں آگ لگی نہیں لگائی گئی، اربوں کا نقصان، تحقیقات کرائی جائیں : بلوچستان اسمبلی ارکان

35 افراد زخمی ، کئی کی حالت تشویشناک، سپیکر اسمبلی نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے 30دن میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی گودام میں آگ کے بعد لوٹ مار کی کوششیں ہوئیں ،دہشت گردی کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے :حکام

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک )بلوچستان اسمبلی میں مستونگ کسٹمز گودام میں لگنے والی آگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ حادثاتی نہیں لگی بلکہ ‘‘لگائی گئی’’ہے ،واقعے میں اربوں روپے کی گاڑیاں اور سامان جل کر خاکستر ہوگیا ارکان نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ۔بلوچستان کے ضلع مستونگ میں لکپاس کے مقام پر محکمہ کسٹمز کے گودام میں لگنے والی آگ نے اربوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، ایل پی جی ٹینکرز اور دیگر قیمتی سامان کو جلا کر خاکستر کردیا۔

فائر بریگیڈ اور پی ڈی ایم اے کے عملے نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا جبکہ ایل پی جی ٹینکرز پھٹنے سے 35 افراد زخمی ہوگئے ۔بلوچستان اسمبلی میں واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بعض ارکان نے الزام عائد کیا ہے مستونگ گودام میں آگ حادثاتی نہیں بلکہ سازش کے تحت‘‘لگائی گئی’’ہے ۔ نیشنل پارٹی کے رکن رحمت بلوچ نے دعویٰ کیا کہ آگ سے تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ تاجروں کے نقصان کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سپیکر اسمبلی نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو 30 دن میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔واقعے نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کرلی جب اس سے قبل کسٹمز کوئٹہ میں 60 کروڑ روپے مالیت کی چاندی کو سیسے سے تبدیل کرنے کا سکینڈل بھی سامنے آچکا تھا۔ حکام کے مطابق گودام میں آگ کے بعد لوٹ مار کی کوششیں بھی ہوئیں جبکہ مقدمے میں دہشت گردی یا منظم جرائم پیشہ عناصر کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں