ایران پر آج حملہ کرنا تھا ، قطر ، سعودیہ ، امارات کی درخواست پر موخر کر دیا : ٹرمپ
اتحادیوں کا ماننا ہے امریکا بلکہ مشرق وسطیٰ اور دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ طے پاسکتا ،بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنیکی اجازت نہیں ہوگی:امریکی صدر، معاہدہ نہ ہونے پر بڑی فوجی کارروائی کیلئے تیاررہنے کاحکم امریکی شرائط پر ایرانی جواب واشنگٹن کے حوالے ، ایران کا امریکی موقف میں نرمی کا اشارہ ،امریکی حکام کی تردید ،محسن نقوی ایران میں تین دن ثالثی کے عمل میں شامل رہنے کے بعد واپس،یورینیم افزودگی پر بات ہوگی نہ سمجھوتا:ایران
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے آج ایران پر حملہ کرنا تھا ، قطر ، سعودیہ ، امارات کی درخواست پر مو خر کر دیا، ٹروتھ سوشل میڈیا پراپنے بیان میں انہوں نے کہا مجھے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے یہ درخواست موصول ہوئی ہے کہ ایران پر ہمارا وہ فوجی حملہ، جو آج (منگل ) کیلئے طے تھا، فی الحال مؤخر کر دیا جائے ، کیونکہ اس وقت نہایت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ ان عظیم رہنماؤں اور ہمارے قریبی اتحادیوں کا ماننا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بھی انتہائی قابلِ قبول ہوگا۔اس مجوزہ معاہدے کا ایک بنیادی اور انتہائی اہم نکتہ یہ ہوگا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان رہنماؤں کیلئے اپنے احترام اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے ، میں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی افواج کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایران پر آج کا طے شدہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔
تاہم ساتھ ہی انہیں یہ احکامات بھی دئیے گئے ہیں کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو وہ کسی بھی لمحے ایران کے خلاف مکمل اور بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کیلئے پوری طرح تیار رہیں۔ٹرمپ کی یہ پوسٹ اس وقت سامنے آئی جب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ امریکی شرائط کے جواب میں تہران کا مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے ،ایک پاکستانی ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ تازہ ترین ایرانی تجویز واشنگٹن تک پہنچا دی ہے ۔ تاہم ذریعے نے اشارہ دیا کہ پیش رفت مشکل رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ فریقین مسلسل اپنے مطالبات بدل رہے ہیں،ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔تجویز کو سابقہ پیشکش سے ملتی جلتی قرار دیا گیاہے ،اس تجویز کی اولین ترجیح جنگ بندی یقینی بنانا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور بحری پابندیوں کا خاتمہ ہے ۔ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی سے متعلق متنازعہ معاملات کو بعد کے مذاکراتی مراحل تک مؤخر کیا جائے گا۔
تاہم امریکی مؤقف میں ممکنہ نرمی کے اشارے دیتے ہوئے سینئر ایرانی ذریعے نے کہا کہ امریکا نے بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد ایران کے فنڈز، جن کی مالیت دسیوں ارب ڈالر ہے ، میں سے ایک چوتھائی رقم جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ اس کے تمام اثاثے بحال کیے جائیں۔ایرانی ذریعے نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے اس معاملے پر بھی زیادہ لچک دکھائی ہے کہ ایران کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں بعض پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ۔تاہم امریکا نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ مذاکرات میں کسی معاملے پر اتفاق ہوا ہے ۔ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکا نے مذاکرات جاری رہنے کے دوران ایران پر عائد تیل پابندیوں میں نرمی پر اتفاق کیا ہے ۔تاہم ایک امریکی عہدیدارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے اس دعوے کو غلط قرار دیا۔پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تین دن تہران میں ثالثی کے عمل کے حصے کے طور پر موجود رہے اور پیر کو اسلام آباد واپس پہنچے ۔ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان جو ثالثی میں شامل ہیں، نے برلن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا وہ امریکا اور ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرات سے آگاہ ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو میں کہا امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا،پراجیکٹ فریڈم کے روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر آپ پراجیکٹ فریڈم کو روکتے ہیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم ایک ممکنہ ڈیل یا معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ مارکو روبیو نے کہا ہمارے بھی خیال میں یعنی امریکی صدر بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس معاملے کا حل سفارتی انداز میں نکالا جائے ، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اپنے بیڑے خلیجِ فارس سے نکال لیتے ہیں، اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے باوجود اُن پر ایران کی جانب سے حملے کیے گئے ۔ مارکو روبیو نے کہا امریکی صدر اب بھی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ موجود مسائل کا سفارتی حل نکالا جائے ۔ ہماری جانب سے ایرانی حکومت اور انتظامیہ کو ہر قسم کا موقع دیا گیا، مگر ایران میں ایک تقسیم کی فضا پائی جاتی ہے ، یعنی وہاں فیصلہ کس نے کرنا ہے اس بارے میں ابھی تک ابہام موجود ہے ۔انہوں نے کہا مذاکرت میں تو ایرانی وزیر خارجہ سامنے آتے ہیں اور اب اس بات کا واضح طور پر علم نہیں ہے کہ وہ ایران واپس جا کر وہاں کی انتظامیہ، سپریم کونسل یا نئے رہبراعلیٰ کس سے بات کرتے ہیں اور فیصلہ کون کرتا ہے ؟
اسی وجہ سے ہماری تجاویز کے بعد اس پر جواب میں ایران کی جانب سے چار سے پانچ دن لگ جاتے ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کس سے بات کرتے ہیں اور امریکا کو جواب دینے کیلئے انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، ایران کے مطالبات واضح ہیں، ایرانی مطالبات میں ایرانی منجمد فنڈز جاری کرنا اور پابندیاں اٹھانا شامل ہیں ،ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتا،معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے ۔متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی ملک کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں،امریکا اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا، خطے کے ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کی، دونوں ٹیموں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر بات چیت کی۔ آبنائے ہرمز میکنزم کیلئے ایران عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں کہا ایران کسی دباؤ، دھونس یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا کرے گا۔دشمن ایران کو مختصر وقت میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اب ایرانی عوام اور حکام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو ہونے والی ذلت کا ازالہ کرنے کیلئے کسی بھی احمقانہ اقدام کو دہرانے کا نتیجہ ایران کی جانب سے مزید سخت اور فیصلہ کن حملوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کیا جائے ورنہ بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے ،جتنا زیادہ ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اتنا ہی زیادہ نقصان دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پہنچے گا،امارات کو اسرائیل کی سازشوں میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کے صبر کی ایک حد ہے ۔انہوں نے کہا تمام تر تحفظات کے باوجود تہران نے ابوظہبی کے ساتھ دوستی اور تعلقات کے دروازے بند نہیں کیے۔