پنجاب سے خیبر پختونخوا کیلئے گندم پر پابندی قومی یکجہتی کے منافی : کے پی وزیر اعلیٰ،گورنر اور اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس

 پنجاب سے خیبر پختونخوا کیلئے گندم پر پابندی قومی یکجہتی  کے منافی : کے پی  وزیر اعلیٰ،گورنر اور اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس

پہلی بار وزیر اعلیٰ،گورنر خیبر پختونخوا ، اپوزیشن لیڈر صوبائی حقوق کیلئے ایک پیج پر آگئے ، گندم کی ترسیل،سی این جی کی بندش پر سیاسی اختلافات بھلا کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان وزیر اعظم کو خط لکھ دیا،پنجاب حکومت خیبر پختونخوا سے ظلم کر رہی:سہیل آفریدی،وزیر اعظم نوٹس لیں،’’شہبازسپیڈ‘‘ کیساتھ کام کریں:فیصل کنڈی، مسائل توجہ طلب :عباداللہ

پشاور، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)صوبے میں پہلی بار وزیر اعلیٰ،گورنر خیبر پختونخوا اور اپوزیشن لیڈر صوبائی حقوق کیلئے ایک پیج پر آگئے ، صوبے کو گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش پر سیاسی اختلافات بھلا کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا ،انہوں نے کہا کہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کیلئے گندم پر پابندی قومی یکجہتی کے منافی ہے ، خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگہ ہال میں وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی،گورنر فیصل کریم کنڈی ، سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا خیبر پختونخوا کے عوام کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے ، اگر عوام کو مزید تنگ کیا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ پنجاب نے آٹا بند کرکے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا، ہمارے سی این جی سٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی، سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے ، آرٹیکل 151 کے تحت خوراک کی اشیاء کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ خیبر پختونخوا کا غریب شہری پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا خرید رہا ہے۔

خیبر پختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے ، اس کے باوجود ہمارے سی این جی سٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔ خیبر پختونخوا کی گیس کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے ۔ وفاقی حکومت مختلف منصوبوں میں ہمارے ساتھ غیر قانونی و غیر آئینی رویہ روا رکھے ہوئے ہے ،سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعظم کو سی این جی سٹیشنز کی بندش پر خط بھی لکھ دیا اور کہا ہے کہ اقدام سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا میرا ایک ہی مطالبہ ہے کہ غیرقانونی اقدامات میں وفاقی حکومت کا ساتھ نہ دیں ، وفاق نے زیادتی کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی کاٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کور کمانڈر ہاؤس اجلاس میں صوبے کی بدامنی کا حل بتایا تھا، بدقسمتی سے میری کسی تجویز پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ مداخلت بند اور کے پی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کی جائے تو 100 دن میں امن قائم ہوگا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش اس وقت خیبر پختونخوا کے اہم ترین مسائل ہیں۔ وزیراعظم صوبے کے مسائل پر ‘‘شہباز سپیڈ’’ سے کام کریں۔ گندم اور سی این جی کے معاملات پر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا، سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سی این جی کی بندش آئین کی خلاف ورزی ہے ، وزیراعظم کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔ خیبرپختونخوا کو پانی کا اپنا حصہ نہیں مل رہا، اگر صوبے کو اس کا جائز حق دیا جائے تو کسی سے گندم مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ، گورنر نے کہا کہ ہم ریاست کو سستی گیس اور بجلی دے رہے ہیں، مائنز ہمارے پاس ہیں، ہمیں پانی کا شیئر مل جائے تو ہمیں گندم لینے کی ضرورت نہیں،گورنر نے کہا غریب عوام کو گندم اور سی این جی نہ ملے تو لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے ، اس معاملہ پر عوام کے ساتھ، وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیے ۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عباد اللہ نے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کام کر رہی ہے لیکن مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔انہوں نے سب کو اکٹھا کرنے پر سپیکر کے پی اسمبلی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ادھر راولپنڈی میں گزشتہ ہفتہ سراج محسود اور زین شاہ قتل کیس کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے پشتون قبائل کے جرگہ کے ہمراہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی۔ سلیم حیدر نے اس حوالے سے ہرممکن کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں