حکومت کی کامیابی تقریروں نہیں ، عوام کی بدلی زندگیوں سے ناپی جاتی : مریم نواز
پنجاب میں جامع اقدامات سے چیلنجز پر قابو پا کر آگے بڑھ رہے ،باکو جدید شہری تبدیلی، ویژن اور عالمی رابطے کا آئینہ دار شہری اب وعدوں کے نہیں اپنے اصل وقار کے منتظر ،پنجاب میں 1 لاکھ 60 ہزار خاندانوں کو ہاؤسنگ سپورٹ فراہم کرچکے مہمان نوازی پر حکومتِ آذربائیجان کی مشکور ہوں :ورلڈ اربن فورم سے خطاب،صدر اور اہلیہ کا وزیر اعلیٰ کیساتھ گروپ فوٹو
لاہور(نیوزایجنسیاں )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے آذربائیجان کے شہر باکو میں‘‘ورلڈ اربن فورم’’سے تاریخی خطاب کیا اورپنجاب کے عوامی فلاحی پراجیکٹس سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ورلڈ اربن فورم باکو کے لیڈرز سمٹ میں شرکت باعثِ اعزاز ہے ۔ ہر لیڈر کے لیے یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ترقی کبھی بھی ڈرپوک نہیں ہوتی، حوصلہ ہی فرق پیدا کرتا ہے ۔ حکومت کی کامیابی تقریروں سے نہیں بلکہ عوام کی بدلی ہوئی زندگیوں سے ناپی جاتی ہے ۔ پنجاب میں جامع اقدامات سے چیلنجز پر قابو پا کر آگے بڑھ رہے ہیں،باکو جدید شہری تبدیلی، ویژن اور عالمی رابطے کا آئینہ دار ہے ۔ باکو کا تاریخی پرانا شہر پاکستان اور آذربائیجان کے مشترکہ تہذیبی رشتوں کا متبادل ہے ۔ ملتان سرائے جیسے قدیم تجارتی راستے دونوں ممالک کے صدیوں پرانے عوامی روابط کے گواہ ہیں۔ میں اپنے ساتھ قائد محمد نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کا سلام لائی ہوں۔ گرمجوشی سے کی گئی مہمان نوازی اور بہترین انتظامات پر حکومتِ آذربائیجان کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔ باکو کو متحرک اور عالمی سطح پر جڑے شہر میں تبدیل کرنے پر صدر الہام علیوفکی قیادت قابلِ ستائش ہے۔
میرے والد نواز شریف اور آذربائیجان کی بانی قیادت حیدر علیوف کا رشتہ اعتماد اور احترام پر استوار تھا۔ باکو میں کھڑے ہو کر میں واقعی محسوس کرتی ہوں کہ میں کسی غیر ملک میں نہیں بلکہ اپنے گھر آئی ہوں۔ وسطی ایشیائی ممالک میں میرا یہ پہلا دورہ باکو کا ہے ۔ میں آپ کے پاس 13 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے پنجاب کے انقلاب اور عزم کی کہانی لائی ہوں۔ہم اس بات کی نئی تعریف متعین کر رہے ہیں کہ شہر کیسے بنائے جاتے ہیں اور عوام کو وقار کیسے دیا جاتا ہے ۔ شہر صرف اسی وقت رزیلینٹ بنتے ہیں جب ترقی انسان دوست، ماحولیات سے لیس اور ڈیٹا پر مبنی ہو۔ شہر صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، یہ انسانی کہانیاں ہیں جہاں وقار محفوظ یا محروم ہوتا ہے ۔جب میں نے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تو میں جانتی تھی کہ مجھے کوئی عہدہ نہیں بلکہ ذمہ داری وراثت میں ملی ہے ۔ پنجاب کے شہری اب وعدوں کے نہیں بلکہ اپنے اصل وقار کے منتظر ہیں۔ ہم نے اپنی نوعیت کے پہلے گھر گھر جا کر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام ،پنجاب سوشل اکانومک رجسٹری کا آغاز کیا۔ ہمارا صرف ایک اصول ہے کہ ترقی کے اس سفر میں کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر ہماری سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح عوام کو چھت فراہم کرنا تھی۔ فلیگ شپ پروگرام ''اپنی چھت اپنا گھر'' کے تحت پنجاب نے بلا سود قرضوں سے دنیا کا بڑا رہائشی منصوبہ دیا، ایک سال سے بھی کم عرصے میں 1 لاکھ 60 ہزار خاندانوں کو ہاؤسنگ سپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔ ماڈل ویلیج پروگرام' کے ذریعے پنجاب کے 2000 سے زائد دیہاتوں کی تقدیر بدلی جا رہی ہے ۔ پنجاب نے صوبے بھر میں 2 ارب ڈالر سے زائد کے تاریخی اربنائزیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔
محض دو سال کے قلیل عرصے میں 30000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر اور مکمل کی جا چکی ہیں۔ پنجاب میں اب اربن فلڈنگ کے منظم اورمضبوط اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کے ثقافتی دل لاہور کو فخر کے ساتھ 2026 سے 2027 کے لیے ‘‘ای سی او ٹورازم کیپیٹل’’ قرار دیا گیا ہے ۔ ثقافتی ورثے کی بحالی صرف ماضی کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ نئے مواقع پیدا کرنا اور شناخت کو مضبوط کرنا ہے ۔ ہم فخر اور اعتماد کے ساتھ اپنے شہروں کو پوری دنیا کے لیے کھول رہے ہیں۔ ستھرا پنجاب کے ذریعے 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ صفائی کارکن روزانہ صوبے کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک صاف ستھرا شہر صرف انسانی وقار کی علامت نہیں بلکہ عملی طور پر پائیداری کا ثبوت ہے ۔ سموگ کنٹرول کے لیے نفاذ اور نگرانی پر مبنی ٹیکنالوجی طریقہ کار کے ساتھ ہوا کا معیار اولین ترجیح ہے ۔صاف ہوا میں سانس لینا کوئی مراعات یا لگژری نہیں بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔پنجاب کلین موبلٹی کے تحت پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک بسیں متعارف کرا چکا ہے ۔ ہمارا ہدف 2029 تک 5000 الیکٹرک بسیں، الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک ٹیکسیاں فراہم کرنا ہے ۔ پلانٹ فار پنجاب مہم کے تحت ہم نے صوبے بھر میں 5 کروڑ درخت لگائے ہیں۔ قبل ازیں ورلڈ اربن فورم آمد پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور ان کی اہلیہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پرتپاک استقبال کیا اورمریم نواز کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوائی۔