جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کیخلاف آئینی عدالت سے رجوع

جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کیخلاف آئینی عدالت سے رجوع

22مئی ملک گیر مظاہرے ، عید کے بعد چاروں صوبوں میں ہڑتال:حافظ نعیم

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، اپنے رپورٹر سے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر میں نافذ پٹرولیم لیوی نظام اور نئی متعارف کردہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا۔ ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرولیم لیوی آئینِ پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے ۔ پٹرولیم لیوی اب محض ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی بلکہ وفاقی حکومت کیلئے سب سے بڑے ریونیو ذرائع میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ لیوی کو پارلیمان کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا جو آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔ پٹرول پر پٹرولیم لیوی تقریباً 117 روپے 41 پیسے لٹر تک پہنچ چکی ہے ، اس کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عوام سے وصول کیے جا رہے۔

لیوی کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار، خوراک اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ ہو رہا جس سے عوام شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ پٹرولیم لیوی کو ٹیکس قرار دے کر کالعدم قرار ، حکومت کو وصول شدہ لیوی کے استعمال اور مصرف کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے ۔ دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے آئینی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ساتھ ساتھ عوامی احتجاج بھی جاری رکھے گی ، بائیس مئی کو ملک گیر مظاہرے ، عید کے بعد چاروں صوبوں میں ہڑتال کی جائے گی ، لانگ مارچ اور سڑکیں جام کرنے کے آپشنز بھی موجود ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں