آئی ایم ایف شرائط :وفاق نے صوبوں سے 400 ارب اضافی آمدن کا مطالبہ کر دیا
زرعی آمدن ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور سروسز جی ایس ٹی بڑھا کر صوبوں کو محصولات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا آئندہ مالی سال 2.9کھرب پرائمری سرپلس ہدف، صوبوں نے آئی ایم ایف شرائط ماننے کی یقین دہانی کرادی تیل مہنگا رہنے سے مہنگائی دباؤ برقرار، سٹیٹ بینک کی مزید سخت مانیٹری پالیسی اپنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا
اسلام آباد(مدثر علی رانا) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاق نے صوبوں سے آئندہ مالی سال 400 ارب روپے اضافی آمدن اکٹھی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے صوبائی وزرائے خزانہ کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کے دوران صوبائی حکام سے ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے کا مطالبہ کیا ۔ وزیرِ خزانہ نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر آمدن میں اضافے پر بات کی۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے معاشی اہداف اور میکرو اکنامک فریم ورک پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے ۔ وزارتِ خزانہ نے نئے مالی سال کے لیے حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 4.1 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی 8.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کے لیے 2 فیصد پرائمری سرپلس کی شرط رکھی ہے جو تقریباً 2.9 کھرب روپے بنتی ہے ۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے صوبائی معاشی ٹیموں سے ورچوئل اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے صوبوں پر زور دیا کہ وہ اضافی ریونیو اقدامات کریں تاکہ مطلوبہ مالیاتی سرپلس حاصل کیا جا سکے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے لیے 4.1 فیصد معاشی شرح نمو کی تجویز دی جبکہ آئی ایم ایف نے 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا تھا۔ آئندہ مالی سال کے لیے وزارتِ خزانہ نے اوسط افراطِ زر 8.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے جبکہ آئی ایم ایف کا اندازہ 8.4 فیصد ہے ۔ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کے باعث اگلے مالی سال کی ابتدائی دو سہ ماہیوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے جس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مالی سال میں مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 4 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے جو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم ہو گا۔ آئندہ مالی سال کے دوران درآمدات 70 ارب ڈالر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 42 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔
آئندہ بجٹ میں صوبوں کے لیے ٹیکس محصولات اور مالیاتی سرپلس کے اہداف بھی شامل کیے جائیں گے ۔ صوبوں سے توقع کی گئی ہے کہ وہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں 0.3 فیصد اضافے میں کردار ادا کریں گے ۔ اس مقصد کے لیے سروسز پر سیلز ٹیکس کے دائرئہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ معیشت کے تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے ۔ زرعی آمدن ٹیکس کی نئی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدن پر لاگو ہوں گی جبکہ اس کے ثمرات مالی سال 2027 میں حاصل ہوں گے ۔ موجودہ مالی سال میں آئی ایم ایف نے زرعی آمدن ٹیکس کے حوالے سے کوئی ہدف مقرر نہیں کیا تھا۔آئی ایم ایف نے صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ سروسز پر جی ایس ٹی کی وصولی بہتر بنانے کے لیے نفاذی نظام مضبوط کریں جبکہ زرعی آمدن ٹیکس اصلاحات کے مؤثر نتائج کے لیے ایف بی آر کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ، خودکار نظام اور اضافی افرادی و تکنیکی وسائل مہیا کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف صوبوں کو ان اصلاحات کے نفاذ کے لیے مسلسل تکنیکی معاونت اور مشاورت فراہم کر رہا ہے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام یا پالیسی متعارف نہیں کرائیں گے جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف یا شرائط کے منافی ہو۔ صوبوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی ایسے فیصلے سے قبل جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف پر اثرانداز ہو سکتا ہو، صوبے وفاقی وزارتِ خزانہ کے ذریعے آئی ایم ایف سے مشاورت کریں گے ۔آئی ایم ایف وفد کے آئندہ بجٹ اخراجات پر صوبوں سے ورچوئل بات چیت کے دوران آئندہ مالی سال سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ صوبوں کو ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کے لیے وفاق پر انحصار ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
نئے بجٹ کے ساتھ زرعی آمدن پر انکم ٹیکس جمع کرنے پر کوئی چھوٹ نہیں ہو گی۔وزیرِ خزانہ نے صوبائی حکام کو بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف وفاق اور صوبوں کی معاشی کارکردگی سے مطمئن ہے اور وزیرِ خزانہ نے صوبوں کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔ آئی ایم ایف کے مطالبے پر صوبوں نے آئندہ مالی سال سرپلس کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ آئی ایم ایف وفد بجٹ پر مذاکرات مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہو جائے گا۔