امریکی دھمکیوں سے لگتا ٹرمپ خود جنگ سے پریشان

امریکی دھمکیوں سے لگتا ٹرمپ خود جنگ سے پریشان

زیادہ امکان یہی ہے محدود مگر تباہ کن فضائی حملوں کا سلسلہ دیکھنے میں آئے گا

(تجزیہ: سلمان غنی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد بار ایران کو دھمکانے اور مہلت دینے کے عمل سے لگتا ہے کہ وہ خود کسی پریشانی کا شکار ہیں۔ وہ اس پریشانی سے نکلنے کے لیے ایران پر کسی معاہدے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے پاس وقت کم ہے اور یہ دھمکیاں ‘‘ابھی یا کبھی نہیں’’ جیسی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ دوسری جانب ایرانی قیادت ان دھمکیوں سے  پریشان ہونے کے بجائے اعتماد کا اظہار کرتی نظر آ رہی ہے ۔ لہٰذا یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ امریکہ کے جارحانہ عزائم کس حد تک خطرناک ہیں، وہ ایران پر حملہ کیوں کر سکتا ہے اور ایران امریکی جارحیت کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہونے کے بجائے ردعمل کی تیاری کیوں کر رہا ہے ۔جہاں تک امریکہ کے ایران پر حملے کا تعلق ہے تو معاملہ اتنا سادہ نہیں، نہ ہی اس کا جائزہ محض ضد کی بنیاد پر لیا جا سکتا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بڑے عسکری تصادم کے اثرات سے گزر رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے خطے کی تزویراتی حرکیات بدل کر رکھ دی ہیں۔ امریکہ سمجھتا تھا کہ وہ چند روز میں ایران کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دے گا اور رجیم چینج کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر لے گا لیکن امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں بظاہر کمزور نظر آنے والے ایران نے اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ ان کی فوجی برتری کا زعم خاک میں مل گیا۔دوبارہ حملے کی صورت میں امریکہ کے ممکنہ اہداف میں جوہری تنصیبات اور عسکری مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ تنصیبات سب سے زیادہ حساس تصور کی جاتی ہیں۔ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام طویل عرصے سے مغرب کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ، اسی وجہ سے ایران پر زمینی حملہ مشکل تصور کیا جاتا ہے ، اگرچہ مکمل جنگ کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے پاس وسیع آبادی، دشوار گزار جغرافیہ، میزائل ٹیکنالوجی اور مؤثر علاقائی اتحادی نیٹ ورک موجود ہے جو اسے طویل مزاحمت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے ۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تلخ تجربات بھی بڑی طاقتوں کو محتاط کیے ہوئے ہیں۔زیادہ امکان یہی ہے کہ محدود مگر تباہ کن فضائی حملوں کا سلسلہ دیکھنے میں آئے گا۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں عالمی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے تاہم زیادہ امکان مکمل جنگ کا نہیں ۔اگرچہ تمام فریق جانتے ہیں کہ جنگی تباہی کتنی خوفناک ہو سکتی ہے مگر تاریخ کا سبق یہ بھی ہے کہ اکثر جنگیں دانستہ فیصلوں سے نہیں بلکہ غلط اندازوں، ناقص حکمتِ عملی، ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث ہوتی ہیں۔

اسی لیے عالمی رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کی تباہی تو ہو سکتی ہے لیکن امریکہ بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایک طرف دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف مہلت بھی دے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کی دھمکیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ فوری معاہدہ چاہتے ہیں ورنہ جنگ کا آپشن موجود ہے ۔ تاہم مذاکرات میں تعطل اور صدر ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے صورتحال غیر یقینی ہے ۔ وقت یقیناً کم ہے مگر لگتا ہے کہ گھڑی کو بار بار آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا تہران کا دوبارہ دورہ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ثالثی کا عمل جاری ہے اور نتیجہ خیزی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔اسلام آباد کی کوشش ہے کہ جنگ سے بچا جائے اور فریقین اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں