فیلڈ مارشل کا اہم دورہ ایران،امریکا کو جلد معاہدے کی امید
محسن نقوی کی ایرانی وزیرخارجہ سے دوبارہ ملاقات،قطری مذاکراتی ٹیم بھی تہران پہنچ گئی، پاکستان ہی ثالث ،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں،ڈیل ہماری پہلی ترجیح:مارکو روبیو حتمی مسودہ تیار،یورینیم ذخائر ، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر اب بھی تعطل :عراقچی، مذاکراتی ٹیم کے ترجمان بقائی مقرر،معاہدے کا امکان 50 فیصد:امارات، مزید 35 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے
اسلام آباد،تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مصالحت کے سلسلے میں اہم دورے پر ایران پہنچ گئے ، ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات، خطے میں امن کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے ،اپنے دور ہ ایران کے دوران آرمی چیف اہم ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے ، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی ایران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے دو دنوں میں دوسری بار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی،جس میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے حوالے سے تنازع کے حل کی خاطر تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک قطری مذاکراتی ٹیم بھی امریکا کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت جمعہ کے روز تہران پہنچی، تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور باقی ماندہ مسائل کے حل کیلئے ایک معاہدہ طے کرانے میں مدد دی جا سکے ۔خیال رہے قطر حالیہ تنازع کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے بعد اب تک ایران جنگ میں ثالثی کے کردار سے خود کو دور رکھے ہوئے تھا۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ایران کے ساتھ ڈیل ہماری پہلی ترجیح ہے ، امریکا سے معاہدہ کرنے کیلئے ایران کو فیصلہ کرنا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم معاہدے پر کام کررہے ہیں، ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے ، ایران کو ٹولنگ سے روکنے کیلئے ضروری عالمی اتفاق رائے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ، ایران کو ٹول ٹیکس نظام سے روکنے کیلئے اقوام متحدہ پلیٹ فارم کا بھی استعمال کررہے ۔مارکو روبیو نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز کے مسئلے کو حل کریں گے ۔مارکو روبیو نے ایران میں قطری ٹیم کے بارے میں پوچھے جانے پرکہا کہ ایران سے مذاکرات پاکستانی کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، مذاکرات میں پاکستان بنیادی رابطہ کار رہا ہے اور اس نے قابلِ تحسین کام کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہاظاہر ہے دوسرے ممالک کے بھی مفادات ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک جو اس تمام صورتحال کے بیچ میں ہیں ۔ ان کے اپنے مسائل بھی ہیں اور ہم ان سب سے بات کرتے ہیں۔ لیکن میں صرف یہ کہوں گا کہ اس پورے معاملے میں جس بنیادی ملک کے ساتھ ہم کام کرتے رہے ہیں، وہ پاکستان ہے ، اور یہی صورتحال برقرار ہے ۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی ایرانی مذاکراتی وفد کے ترجمان مقرر کردئیے گئے ، ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے اسماعیل بقائی کو وفد کا ترجمان مقرر کیا ہے ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود بات چیت کے عمل میں ‘محتاط امید’ پائی جاتی ہے ، تاہم ان کے بقول سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ۔عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے ، تاہم یہ دو بڑے نکات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ان کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کیلئے واضح مو قف، سمجھوتا اور فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں، اور انھوں نے خبردار کیا کہ ان معاملات کو حل نہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔ایرانی پاسداران بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 24گھنٹوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینرز سمیت 35 جہازوں نے ایرانی اجازت کے بعدآبنائے ہرمز عبور کیا ہے ۔متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انورقرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا امکان پچاس فیصد ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس حوالے سے ماضی میں بہت سے مواقع کھوچکا ہے ۔