شوہر کو بیوی کیساتھ صلح معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہوگا:ہائیکورٹ
اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار ،بیوی کو 25 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم جسٹس راحیل کامران نے صنم شہزادی کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوہر کو بیوی کے ساتھ صلح نامے میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہوگا، جبکہ عدالت نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بیوی کو 25 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس راحیل کامران نے صنم شہزادی کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت کے مطابق بیوی نے شوہر کے خلاف 25 لاکھ روپے ہرجانے کی ڈگری کادعویٰ دائر کیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق شوہر نے دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو نابالغ بیٹے سمیت گھر سے نکال دیا، جس کے بعد خاندان کے بڑوں کی مداخلت سے دونوں فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے تحت شوہر نے بیوی کو ماہانہ 2 ہزار روپے خرچہ دینے ، نابالغ بیٹے کیلئے 5 مرلہ زمین فراہم کرنے اور الگ رہائش کا بندوبست کا وعدہ کیا ۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ معاہدے کے مطابق شوہر نے تین ماہ کے اندر 13 لاکھ لاگت سے گھر تعمیر کرنے کا بھی وعدہ کیا اور خلاف ورزی کی صورت میں 25 لاکھ جرمانہ ادا کرنے کی شرط شامل تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر اپنی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر بیوی کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا،اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیوی کو 25 لاکھ روپے موجودہ ڈالر ریٹ یا سونے کی قیمت کے مطابق ادا کئے جائیں۔