فیلڈ مارشل کا دورہ ایران، بڑے بریک تھرو کا امکان

فیلڈ مارشل کا دورہ ایران، بڑے بریک تھرو کا امکان

معاملات طے ،کسی بڑے فریم ورک کی طرف پیش رفت ہو سکتی

(تجزیہ:سلمان غنی)

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران سے بڑے بریک تھرو کا امکان پیدا ہوگیا ،یہ پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے جس کے لئے وزیر داخلہ محسن نقوی سرگرم تھے اور وہ تہران میں ہی موجود تھے اور گزشتہ 24 گھنٹے میں ایران کی لیڈر شپ سے اہم ملاقاتیں ہوئی تھیں۔اطلاعات یہ ہیں کہ ایران اپنے موقف میں لچک پر تیار ہوگیا ہے ۔اس کا ایک ثبوت قطر کا بھی اپنی ٹیم کو تہران میں ہونے والی پیش رفت کے جائزہ کے لئے تہران بھجوانا ہے ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ کہنا کہ امریکا ایران تنازع میں اصل ثالث پاکستان ہی ہے ، ایک بڑا کریڈٹ ہے ۔ پاکستان نے مذکورہ گھمبیر صورتحال میں اپنے ثالثی کردار میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور ایک اچھے سہولت کار کے طور پر فریقین کے آپس کے تحفظات دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

پاکستان کی ان سفارتی و ثالثی کوششوں کو چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور بعض اہم عالمی قوتوں کی سپورٹ بھی حاصل رہی۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا تہران میں فریقین کے درمیان اہم نکات پر اتفاق رائے ہوگا؟، تو اس حوالے سے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ،اس لئے کہ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے آبنائے ہرمز اور یورینیم کے مسائل بھی طے ہوں گے ۔ جبکہ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان سامنے آیا ہے امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود انہی دو نکات پر تعطل برقرار ہے ۔لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکا، ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی پر تو اتفاق رائے ہو چکا ہے لیکن مذاکراتی عمل میں پیش رفت بارے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے ان متنازعہ نکات پر بھی فریقین میں معاملات طے ہیں ،امریکا بھی مشرق وسطٰی میں ایک نئی جنگ کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں اور ایران بھی سمجھتا ہے کہ طویل جنگ اس کی معیشت کو ہلا کر داخلی استحکام پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے ۔اس لئے امریکا ایران تناؤ پر کسی بڑے فریم ورک کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں