شہباز شریف کے نزدیک سول و عسکری ہم آہنگی ناگزیر
فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار کی کامیابیوں کو وہ ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جو اپنے دور حکومت میں اندرونی و بیرونی محاذ پر رونما ہونے والی اپنی بڑی کامیابیوں کو اپنی یا اپنی حکومت کا بڑا کریڈٹ قرار دینے کی بجائے جس جس نے جس محاذ پر بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں ان کا نام لے کر ان کے کردار کو سراہتے نظر آتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف اکثر کامیابیوں کا کریڈٹ اجتماعی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا سیاسی انداز ہمیشہ انتظامی ٹیم ورک کو اجاگر کرتا ہے ، وزیراعلیٰ کے طور پر بھی وہ اپنے صوبائی وزرا کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کرتے رہے ہیں اور عملاً ان کے نام لینے پر یقین رکھتے تھے ۔ وہ دراصل یہ پیغام دیتے ہیں کہ ریاستی کامیابیاں کسی ایک فرد کی نہیں مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں اور موجودہ حالات میں بھی ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ داخلی ،سلامتی ،معیشت اور خارجہ پالیسی پر سول و عسکری قیادت ایک نظر آئیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف دراصل اس ہم آہنگی کو نمایاں کرنے کی کوشش سمجھ آتی ہے تاکہ داخلی اور بیرونی دنیا کو استحکام کا پیغام دیا جا سکے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کے طرز عمل اور طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو وہ عملاً ادارہ جاتی کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات ہوں ،سفارتی سرگرمیاں یا معاشی استحکام کی کوشش، وہ انہیں ریاستی اداروں کی مشترکہ کامیابی قرار دیتے ہیں۔
اس سے ایک طرف اداروں کا مورال بڑھتا ہے تو دوسری طرف سیاسی تناؤ کم رکھنے میں مدد ملتی ہے ، لہٰذا شہباز شریف کی سیاست اور حکومتی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو وہ عملی سیاست کے قائل ہیں اور وہ تصادم کی بجائے اشتراک عمل کے قائل ہیں، ویسے بھی وہ ایک ایسے دور میں حکومت کر رہے ہیں کہ جب پاکستان کو معاشی بحران، دہشت گردی ،سیاسی کشیدگی اور علاقائی تناؤ جیسے چیلنجز درپیش ہیں ،اس ماحول میں وہ سول و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو ناگزیر سمجھتے ہیں، اس لئے وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو نمایاں انداز میں سراہتے نظر آتے ہیں ۔سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کے طاقت کے ڈھانچے میں عسکری ادارے کا اثر اہم ہے اس لئے شہباز شریف تعلقات کو کشیدہ کرنے کی بجائے تعاون پر مبنی سیاست کرتے ہیں ۔ناقدین اسے ضرورت سے زیادہ انحصار سمجھتے ہیں جبکہ حامی اسے حقیقت پسندانہ طرز حکمرانی قرار دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے جمعہ کے روز ملاقات میں پوچھا گیا کہ آپ اپنے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اتنا ذکر کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے برجستہ کہا کہ دنیا ان کی تعریف کرتی ہے تو میں کیوں نہ کروں، اس شخص نے امن کے لئے بڑا کردار ادا کیا، اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تو ہم کیوں خوش نہ ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے بیرونی محاذ پر اپنی رابطہ کاری پر وزیر خارجہ اسحق ڈار کی بھی تعریف کی اور کہا انہوں نے بھی دن رات ایک کیا، آج اگر ہمیں دنیا میں سراہا جا رہا ہے تو یہ سب کچھ ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ۔