ٹرائل تاخیرمیں ملزم قصوروار نہ ہوتوضمانت حق:سپریم کورٹ
منی لانڈرنگ کیس، گرفتار ملزم اقبال کی ضمانت منظور ، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر فوجداری مقدمہ کے ٹرائل میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے عمل یا کوتاہی کے باعث نہ ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے ضمنی حکم (پرووائزو) کے تحت بعد از گرفتاری ضمانت ملزم کا قانونی حق بن جاتی ہے ، جسے صرف الزام کی سنگینی کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا،منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم محمد اقبال کی ضمانت منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ملزم کے خلاف ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل لاہور میں انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج ہے ، استغاثہ کے مطابق ملزم اپنے بیٹے محمد حماس علی کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کا وصول کنندہ تھا، جس پر پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنے میں معاونت کا الزام ہے ،دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل 2 فروری 2025 سے جیل میں ہے ، چالان جمع ہو چکا ہے اور فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے تاہم ایک بھی استغاثہ کا گواہ پیش نہیں کیا گیا، انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہیں ہوئی، اس لیے وہ قانونی طور پر ضمانت کا حق دار ہے ۔سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاخیر کی بڑی وجوہات استغاثہ کے گواہوں کی عدم پیشی، جج کی رخصت یا تربیتی مصروفیات اور پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی تھیں۔