ایران نے امریکی جنگی جہازوں پر انتبا ہی میزائل داغ دیئے :جنوبی لبنان سے اسرائیل کے انخلا کا مطالبہ

ایران  نے  امریکی  جنگی  جہازوں  پر  انتبا  ہی  میزائل  داغ  دیئے :جنوبی  لبنان  سے  اسرائیل  کے  انخلا  کا  مطالبہ

دونوں جہاز بحیرہ عمان سے نکل گئے :ایرانی فوج، سینٹکام کی تردید، امریکا نے بحر ہند میں تیل بردار جہاز روک لیا مجتبیٰ ٹرمپ ملاقات کا خیال مسترد،فوری 50فیصد اثاثے جاری کرنیکا مطالبہ،جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب:گروسی

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر انتباہی میزائل داغ دئیے جبکہ اپنے لبنانی اتحادی حزب اللہ کی حمایت کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے اسرائیل سے جنوبی لبنان سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے ، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر امن معاہدے کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ تہران نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کیلئے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ایک بنیادی شرط ہوگی۔ایرانی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ عمان میں موجود امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر جنگی جہازوں پر انتباہی میزائل داغے ، جس کے بعد دونوں جہاز علاقے سے نکل گئے ،فوج کے مطابق یہ کارروائی سمندری خلاف ورزیوں، ہراسانی اور امریکی دہشت گرد بحری افواج کی جانب سے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے اغوا کے جواب میں کی گئی۔ تاہم امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ایرانی افواج نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر نہ تو حملہ کیا اور نہ ہی فائرنگ کی،ایسا کوئی اقدام جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہوتا۔

امریکی فوج نے مزید کہا کہ اس کی افواج بدستور خطے کے بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی جوابی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہی ہیں۔سینٹکام نے کہا ایران کی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے آغاز کے بعد سے اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے ، جبکہ6دیگر جہازوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ قواعد پر عمل پیرا ہو سکیں۔دریں اثنا امریکی فوج نے گزشتہ روز بتایا کہ اس کی افواج بحرِ ہند میں ایک تیل بردار جہاز کو روک کر اس پر سوار ہوئیں،بیان کے مطابق یہ جہاز ایران کے خام تیل کی ترسیل کے الزام میں پابندیوں کی زد میں تھا۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے خیال کو مسترد کر دیا ، جس کے بارے میں امریکی صدر نے حال ہی میں امکان ظاہر کیا تھا۔لبنانی میڈیاکو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا میں نے ایک رپورٹ دیکھی جس میں بظاہر کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ملاقات کیلئے تیار ہیں یا ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور حقیقی دنیا میں سوچنا اور جینا چاہیے ۔عراقچی نے انٹرویو میں بتایا کہ جن حملوں میں علی خامنہ ای شہید کئے گئے ، اس وقت وہ بھی رہبر کے دفتر میں موجود تھے ، تاہم عمارت کے ایک دوسرے حصے میں ہونے کے باعث محفوظ رہے ۔عباس عراقچی نے مزید کہا یہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک یہ لبنان میں بھی ختم نہ ہو جائے ۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کو مسترد کر دیا، جس میں اسرائیلی انخلا شامل نہیں تھا اور حزب اللہ مذاکرات کا حصہ بھی نہیں تھا۔ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ حزب اللہ نے جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور ایران اس کی مکمل حمایت جاری رکھے گا،انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ لبنان پر حملے کی دھمکیوں پر عمل نہ کرے ۔سپیکر لبنانی پارلیمنٹ نبیہ بری نے کہا کہ اگر اسرائیلی فوج بھی واپس چلی جائے تو حزب اللہ جنوبی لبنان سے انخلا پر آمادہ ہو سکتی ہے ۔تاہم لبنان کے صدر جوزف عون نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں سودے بازی کے کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے ۔ایران کے نائب وزیر خارجہ اور جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اس کے منجمد اثاثوں کا 50 فیصد جاری کیا جائے ۔جبکہ باقی ماندہ اثاثے بھی ایک معقول مدت کے اندر ایران کے حوالے کیے جانے چاہئیں، جو ان کے بقول ایک یا دو ماہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رفال گروسی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے فریقین کو باقی مسائل حل کرنے کے لیے وقت مل سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں