پنجاب اسمبلی کیلئے 7.41 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز
ارکان کیلئے رہائشی سہولیات، کمیٹیوں کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر منصوبوں میں شامل ایم پی اے ہاسٹل فیز ٹو منصوبے کیلئے بھی 2 ارب 52 کروڑ مختص کرنے کی سفارش
لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کی ترقی، جدیدکاری اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کیلئے مالی سال 2026-27 کے دوران 7 ارب 41 کروڑ 57 لاکھ روپے کے بڑے ترقیاتی پیکیج کی تجویز پیش کر دی گئی ہے ۔ مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں ارکان اسمبلی کیلئے جدید رہائشی سہولیات، کمیٹیوں کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر، سکیورٹی اپ گریڈیشن، پارلیمانی تحقیقاتی ادارے کے قیام اور اسمبلی کمپلیکس کی تزئین و آرائش سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ایم پی اے ہاسٹل فیز ٹو منصوبے کیلئے 2 ارب 52 کروڑ 67 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ہاسٹل میں جدید پارکنگ اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے 1 ارب 2 کروڑ 65 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی عمارت میں تزئین و آرائش اور سہولیات کی تکمیل کیلئے 37 کروڑ 6 لاکھ روپے ، اسمبلی مسجد کی توسیع اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر ہاؤسز کی سہولیات کیلئے 21 کروڑ 11 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ اسمبلی کی مختلف قائمہ و خصوصی کمیٹیوں کیلئے کمروں کی تعمیر پر 80 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ دستاویزات کے مطابق اسمبلی میں سکیورٹی اپ گریڈیشن، ایچ وی اے سی (HVAC) نظام کی بہتری، حفاظتی آلات اور دیگر سہولیات کے لیے 1 ارب 41 کروڑ 99 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ مزید برآں پیپلز ہاؤس میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری اسٹڈی اینڈ ریسرچ کے قیام کے لیے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز جاری کرنے کی تجویز بھی شامل ہے ۔ مجوزہ ترقیاتی پروگرام کا مقصد پنجاب اسمبلی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، محفوظ اور مؤثر پارلیمانی ادارے کے طور پر مزید مستحکم بنانا ہے۔