انکوائری ، ٹھوس تحریری وجوہات کے بغیر ملازم کی برطرفی قانون کے منافی : لاہور ہائیکورٹ
ابتدائی یا محکمانہ انکوائری کو باقاعدہ انکوائری کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا،حقائق متنازع ہوں تومکمل انکوائری لازمی شوکاز نوٹس میں معمولی سزا تجویز کر کے بعد میں برطرفی غیر قانونی اقدام ،برطرفی کا 14 سال پرانا فیصلہ کالعدم
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے چودہ سال قبل برطرف کیے گئے چوکیدار کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ بقایاجات کی وصولی کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کریں۔ عدالت نے چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک برطرف ملازم کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کی برطرفی کا 14 سال پرانا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ ادارے کو فوری طور پر درخواست گزار کو نوکری پر بحال کرنے کی ہدایت جاری کی۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیاکہ کسی بھی ملازم کو باقاعدہ انکوائری اور ٹھوس تحریری وجوہات کے بغیر ملازمت سے برطرف کرنا قانون کے منافی ہے۔
عدالت کے مطابق ملازم کو اپنے دفاع کا مکمل موقع فراہم نہ کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں اور شفاف ٹرائل کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی یا محکمانہ انکوائری کو قانون کے تحت باقاعدہ انکوائری کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کیس میں حقائق متنازع ہوں تو شواہد ریکارڈ کرنے اور گواہوں پر جرح کے لیے مکمل انکوائری کا انعقاد لازمی ہوتا ہے ۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شوکاز نوٹس میں معمولی سزا تجویز کر کے بعد میں ملازم کو نوکری سے برطرف کرنا غیر قانونی اقدام ہے ، جبکہ ملازم کو پہلے ہی اس ممکنہ سزا سے آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے جو اس پر عائد کی جانی ہو۔درخواست گزار شہزاد صدیق نے پیڈا ایکٹ کے تحت اپنی برطرفی کو چیلنج کیا تھا۔