بجٹ میں تاخیر ، چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں بڑھ گئیں
وفاق و صوبوں میں اہداف اور فنڈز کی تقسیم پر اتفاقِ رائے نہ ہونا بنیادی وجہ صوبوں کو ملازمین کی تنخواہیں منجمد اور ترقیاتی منصوبوں کو محدود کرنیکامشوہ پی پی کے تحفظات،تنخواہیں 50فیصدبڑھانے کامطالبہ، حکومت پر دوہرا دباؤ وفاق اور صوبوں میں ڈیڈ لاک سنگین ،فی الحال درمیانی راستہ نظر نہیں آ رہا آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کیلئے بجٹ کی بروقت منظوری درکار :ماہرین
اسلام آباد (نیوز مانیٹرنگ )پاکستان کا آئندہ مالیاتی سال (2026-27) کا سالانہ بجٹ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے ، جس کی وجہ سے ملک کے سیاسی اور معاشی حلقوں میں چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان بجٹ اہداف اور فنڈز کی تقسیم پر اتفاقِ رائے نہ ہونا اس تاخیر کی بنیادی وجہ بنا ہے ۔بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والا نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس تیسری بار آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کرنی تھی تاکہ ترقیاتی بجٹ اور ملک کی معاشی ترجیحات کی منظوری دی جا سکے ۔بجٹ میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں سے کیا جانے والا ایک بڑا مطالبہ ہے ۔ مرکز نے سٹریٹجک اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صوبوں سے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت ان کے حصے کا ایک بڑا فنڈ (تقریباً 1 ٹریلین روپے سے زائد) منجمد یا وفاق کو دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبائی حکومتوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام سے ان کے صوبائی بجٹ خسارے میں چلے جائیں گے اور ان کے لیے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔ وفاق نے صوبوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد کریں اور ترقیاتی منصوبوں کو محدود کریں۔ شہباز شریف حکومت اس وقت دوہرے دباؤ کا شکار ہے ۔ ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی سخت شرائط ہیں، جو حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ اخراجات کو کم کرے ، سبسڈیز ختم کرے اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرے ۔ دوسری طرف، صوبائی حکومتیں اور اتحادی جماعتیں (جیسے پیپلز پارٹی) عوامی دباؤ اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کے باعث ان تجاویز کی مزاحمت کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بجٹ کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور اس کی اہم اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی اور اہم معاشی فیصلوں پر مشاورت نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، جبکہ وہ تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد تک اضافے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے ۔اس مسلسل تاخیر کے باعث اب یہ غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ بجٹ پارلیمنٹ میں کب پیش کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ڈیڈ لاک اتنا سنگین ہے کہ فی الحال کوئی درمیانی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ یہ تاخیر پاکستان کے معاشی بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے کیونکہ ملک کو آئی ایم ایف کے ساتھ نئے بیل آؤٹ پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے بروقت بجٹ کی منظوری درکار ہے۔