نئے ترقیاتی منصوبوں پر پابندی : قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ترقیاتی بجٹ میں وفاق کا حصہ 126 ارب اور صوبوں کا 920 ارب روپے کم کرنیکا فیصلہ
پنجاب ،سندھ،خیبر پختونخوا ترقیاتی پلان میں کمی پر تیار،بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ برقرار، وفاق ، صوبے ایک ہزار 46 ارب کی بچت پر متفق ، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب منظور خیبرپختونخوا کوگندم کی فراہمی کا فیصلہ ، ضم اضلاع کیلئے 56 ارب روپے مختص ،دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی ترجیح ہے ، وفاقی اکائیوں کے درمیان یکجہتی سے ملک ترقی کرے گا،وزیر اعظم
اسلام آباد(مدثرعلی رانا،اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل نے اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی، اجلاس میں نئے ترقیاتی منصو بوں پر پابندی عائد کر دی گئی ، اگلے مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد ، مہنگائی کا 8.2 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،اجلاس میں 3669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان منظور کرلیا گیا ،ترقیاتی بجٹ میں وفاق کا حصہ 126ارب ہوگا جبکہ تینوں صوبوں نے ترقیاتی بجٹ پر 920ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے ، اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے قومی ترقیاتی پروگرام کے حجم میں تاریخی کٹوتی کی منظوری دے دی گئی کونسل نے متفقہ طور پر قومی ترقیاتی اخراجات کا مجموعی حجم 4 ہزار 715 ارب روپے سے کم کر کے 3 ہزار 669 ارب روپے مقرر کر دیا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 1 ہزار 46 ارب روپے کی بچت ہو گی،پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب روپے ، سندھ کا 816 ارب روپے سے کم کر کے 704 ارب روپے ، خیبرپختونخوا کا 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رکھا گیا ہے ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس میں سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہیں، اﷲ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے ،شرکا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا، ملک میں معاشی استحکام کیلئے کوششوں پر وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کی پذیرائی کی،اجلاس کے شرکا نے خلیج میں حالیہ کشیدگی سے عالمی معیشت میں منفی اثرات کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا ،وزیراعظم نے کہا کہ بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی، بچوں کی صحت بالخصوص نشوونما میں کمی کا خاتمہ، سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں،انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی حکمت عملی پر کار بند ہیں برآمدات پر مبنی معیشت ترقی کیلئے اولین ترجیح ہے ، وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے ، دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وسائل درکار ہیں، دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے ،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے ، خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، مائیں، بہنیں اور جوان بیٹے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر و اہلکار اور ہماری مسلح افواج کے جوان اور افسر دن رات قربانیاں دے رہے ہیں،اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے اور اس کا مکمل صفایا ہوگا،ْوزیراعظم نے کہا ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کئے ، خطے کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، صوبوں نے اس حوالے سے بھرپور تعاون کیا، وزیراعظم نے روزگار کے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری، پیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ مشکلات کے باوجودکوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا ر ہیں،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا، دنیا کے کئی ممالک میں پٹرول پمپوں پر لائنیں دیکھنے میں آئیں، بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں عوام کو پٹرول دستیاب رہا، ہم نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی، یہ سب ٹیم ورک کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر خیبر پختونخوا کو گندم فراہم کرنے کی بھی ہدایت کر دی ، اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی، اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے ، اجلاس میں پنجاب کی نمائندگی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کی ، اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں نے اپنے اپنے ترقیاتی پروگراموں میں کٹوتی کرتے ہوئے انہیں رواں مالی سال کی سطح پر منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبوں کیجانب سے ترقیاتی بجٹ کم کرنے کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے بھی اپنے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو 1126 ارب روپے سے کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا ہے ،صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کا مجموعی حجم 3 ہزار 138 ارب روپے سے کم ہو کر 2218 ارب روپے رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے 602 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ان میں توانائی کے شعبے کے لیے 116 ارب روپے ، آبی وسائل کیلئے 75 اعشاریہ 8 ارب روپے ، ٹرانسپورٹ و مواصلات کیلئے 355 اعشاریہ9 ارب روپے شامل ہیں، سماجی شعبے کیلئے مختص فنڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ تعلیم کیلئے 74اعشاریہ 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 45 ارب روپے شامل ہیں ،صحت کے شعبے کیلئے 22 ارب روپے ، ارکان پارلیمنٹ کے ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کے لیے 63 ارب روپے ، گورننس کیلئے 13 ارب روپے ، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 41 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،پیداواری شعبوں کیلئے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،قومی اقتصادی کونسل نے 3669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کے 1000 ارب روپے ، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے 2218 ارب روپے اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی پروگرام کے 451 ارب روپے شامل ہیں، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ این ای سی سال میں دو کے بجائے چار مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی اور منظور شدہ پی ایس ڈی پی کو دوران سال کٹوتیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔
کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے ، زرعی شعبے کی شرح نمو 3 اعشاریہ6 فیصد، صنعتی شعبے کی 4 اعشاریہ5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی 4اعشاریہ2 فیصد مقرر کی گئی ہے افراط زر کا ہدف 8 اعشاریہ2 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ ملکی معیشت کا حجم 1 لاکھ 44 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے سرمایہ کاری کا حجم جی ڈی پی کے 15 فیصد اور قومی بچت کی شرح 14اعشاریہ3 فیصد مقرر کی گئی ہے آئندہ مالی سال جاری کھاتوں کا خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے اعشاریہ7 فیصد یعنی تقریبا ً 3 اعشاریہ6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ، مالی سال 2026-27 کیلئے برآمدات کیلئے اشیا کی برآمدات 32 ارب ڈالر جبکہ خدمات کی برآمدات 11 اعشاریہ27 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے ، درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر اور خدمات کی درآمدات 13 اعشاریہ7 ارب ڈالر متوقع ہیں ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 42 اعشاریہ38 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اجلاس میں پاکستان کی انسانی ترقی کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی بتایا گیا کہ پاکستان علاقائی ممالک کے مقابلے میں ترقیاتی اہداف میں پیچھے رہ گیا ہے فی کس آمدنی کے حوالے سے پاکستان تقریباً 1824 ڈالر پر کھڑا ہے جبکہ بھارت 2675 ڈالر، بنگلہ دیش 2653 ڈالر، ویتنام 5026 ڈالر اور چین 14 ہزار ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں،اجلاس کو بتایا گیا کہ غربت کی شرح 28 اعشاریہ9 فیصد جبکہ بے روزگاری کی شرح 7 اعشاریہ1 فیصد ہے ،تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ،اس صورتحال کے باعث حکومت کو موجودہ معیار زندگی برقرار رکھنے کیلئے ہر سال مزید سکول، ہسپتال، روزگار کے مواقع اور رہائش کی سہولیات پیدا کرنا پڑتی ہیں، دستاویز کے مطابق آئندہ بجٹ میں وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 682 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاور ڈویژن کیلئے 312 ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ، این ایچ اے کو 224 ارب روپے ، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 88 ارب روپے دیئے جائیں گے۔
آئندہ مالی سال آبی وسائل ڈویژن کو 104 ارب روپے دیے جائیں گے ،ڈیفنس ڈویژن کیلئے 11 ارب روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، بجٹ میں ریلوے ڈویژن کو 40 ارب 65 کروڑ روپے مختص کیے ، وزارت داخلہ کو 22 ارب روپے ، وزارت اطلاعات کو پونے 3 ارب روپے ملیں گے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ 4 اعشاریہ3 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کا ملکی معیشت پر اعتماد اور مثبت شراکت داری ہمارا قومی سرمایہ ہے ، ملکی جامعات میں آئی ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو ملکی جامعات میں آئی ٹی کے شعبے میں فراہم کی جانے والی تربیت کو بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے ،بد قسمتی سے ملک کی اکثر جامعات میں آئی ٹی کے شعبے میں فراہم کی جانے والی تعلیم جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے ،انہوں نے پاکستان بھر کی جامعات میں آئی ٹی کے شعبوں میں فراہم کی جانے والی تعلیم و تربیت کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے اے آئی، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس وغیرہ میں بہترین آئی ٹی تربیت فراہم کرنے کے لیے روڈ میپ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ،علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ارکان قومی اسمبلی چو دھری نصیر احمد عباس اور سعد وسیم نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں،حلقہ کے سیاسی امور پر گفتگو کی اور نئے منصوبوں کی تجاویز بھی پیش کیں۔