صنعتوں، زراعت، لائیوسٹاک کی ترقی کے اہداف حاصل نہ ہوسکے : قومی اقتصادی سروے آج جاری ہوگا

صنعتوں، زراعت، لائیوسٹاک کی ترقی کے اہداف حاصل نہ ہوسکے : قومی اقتصادی سروے آج جاری ہوگا

جنگلات ، ماہی گیری ،معدنیات ،ہول سیل و ریٹیل ،انشورنس ،رئیل سٹیٹ کیلئے ترقی کی شرح اہداف سے کم رہی گندم، چاول ، گنے کی پیداوار بڑھی ،مکئی ، کپاس میں کمی ، 61 لاکھ 60 ہزار گدھے ، 3 لاکھ 86 ہزار گھوڑے موجود

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)رواں مالی سال 2025-26 کیلئے وزیرخزانہ محمداورنگزیب اقتصادی سروے آج جاری کریں گے ، اکنامک سروے دستاویز کے مطابق زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے  ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے ، لائیو سٹاک کیلئے ترقی کا ہدف 4.2 فیصد تھا جبکہ لائیو سٹاک میں شرح نمو 3.7 فیصد ہے ، جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3.5فیصد تھا جبکہ جنگلات میں شرح نمو2 فیصد ہے ، ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد تھا جبکہ ماہی گیری کیلئے شرح نمو 1.6 فیصد رہی ہے ۔صنعت کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد تھا جبکہ صنعتی شعبہ میں شرح نمو 3.5 فیصد رہی، معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد تھا جبکہ اس کی شرح نمو 0.38 فیصد ہے ، پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.7 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.6 فیصد رہی، دستاویز کے مطابق بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.1 فیصد رہی، چھوٹی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 8.9 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 8.5 فیصد رہی ، بجلی گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3.5 تھا لیکن گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی ہے ، بجلی، گیس،واٹر سپلائی میں 10 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے ، اکنامک سروے کے مطابق تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد جبکہ ترقی کی شرح 5.7 فیصد رہی ۔ خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 4.09 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.9 فیصد تھا اور شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی کا ہدف 3.4 فیصد کی نسبت 2.3 فیصد تک ریکارڈ ہوا ، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ شرح نمو 3.9 فیصد رہی ہے معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کی نسبت 7.5 فیصد رہی ہے ، انشورنس اور مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد جبکہ گروتھ محض صفر 0.32 فیصد رہی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف4.2 فیصد جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے ، شعبہ تعلیم میں شرح نمو 4.5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5.2 فیصد رہی ہے ، دستاویز کے مطابق سماجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح 4 فیصد کی نسبت شرح نمو 6.8 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے ، نجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح 4.5 فیصد مقرر کی گئی تھی جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد ریکارڈ ہوئے ۔ اسی طرح اہم فصلوں کیلئے گروتھ منفی 4.5 فیصد کی نسبت شرح نمو 0.65 فیصد رہی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔چاول کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن ریکارڈ ہوئی، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا، پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی ہے ۔مکئی کی پیداوار 2.68 فیصد کمی سے 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی، کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کمی کیساتھ پیداوار 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں رہی ہے ، چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ، اکنامک سروے کے مطابق ملک میں آلو کی پیداوار 27.6 فیصد جبکہ کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی ہے ، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11.6، 25.1 اور 9.2 فیصد اضافہ ہوا، مکئی پیداوار 8.8 ملین ٹن جبکہ آلو پیداوار 389 ہزار ٹن رہی، سبزیوں کی پیداوار میں 12.6 فیصداضافہ ہوا ۔سبزیوں کی پیداوار 403 ہزار ٹن رہی، پھلوں کی پیداوار 2.8 فیصداضافہ کیساتھ 444 ہزار ٹن رہی، ، ملک میں گدھوں کی تعداد بڑھ کر 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ، بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ریکارڈ ہوئی، دنبے اور بھیڑ کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ جبکہ بکری اور بکرے کی 9 کروڑ 18 لاکھ ریکارڈ ہوئی، دستاویز کے مطابق اونٹ کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں