سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی، 28 فیصد رہ گئے

سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی، 28 فیصد رہ گئے

تعلیم ترجیح ہونے کا دعویٰ، 24فیصد سرکاری سکولوں میں پینے کا پانی میسر نہیں 35فیصد گورنمنٹ سکول بجلی، 23فیصد بیت الخلا سے محروم،اقتصادی سروے

اسلام آباد(فوزیہ علی، ماہتاب بشیر) ملک میں تعلیم کا شعبہ دستاویزات میں اولین ترجیح ہے تاہم صورتحال حقائق کے برعکس ہے ، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی جو 38فیصد سے کم ہو کر 28فیصد رہ گئے ہیں، اقتصادی سروے کی دستاویز میں سامنے آیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات مزید تنزلی کا شکار ہوگئیں، 35 فیصد سرکاری سکول تاحال بجلی سے محروم ہیں، 23 فیصد سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی سہولت نہیں اور 24 فیصد سرکاری سکولوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ بجلی کی سہولت میں گزشتہ سال کی نسبت 2 فیصد گراوٹ ہوئی۔ بلوچستان میں 21 فیصد اور سندھ میں 32 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت میسر ہے ۔

23 فیصد سرکاری سکول بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے سرکاری سکولوں میں یہ سہولت نہ ہونے کے برابرہے اور صرف 0.3 فیصد سکولوں میں بیت الخلا موجود ہے ۔ سرکاری سکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت میں بہتری نہیں آسکی اور اعداد و شمار گزشتہ سال کی سطح پر برقرار ہیں، 24 فیصد سکول تاحال پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ 25 فیصد سرکاری سکولوں کی چاردیواری بھی نہیں، اس سہولت میں گزشتہ سال کی نسبت 4 فیصد گراوٹ ہوئی۔

اقتصادی سروے کے مطابق آؤٹ آف سکول چلڈرن کی شرح 2023 کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 28 فیصد رہ گئی ہے ۔ بلوچستان میں یہ شرح 69 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد ، سندھ میں 47 سے 39 فیصد، پنجاب میں 32 سے 21 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 30 سے 28 فیصد ہو گئی۔ وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت اپریل 2026 تک 156 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 407,713 طلبہ میں ڈیوائسز تقسیم کی جا چکی ہیں، ان میں 54 فیصد طالبات شامل ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعلیم پر کل اخراجات 962 ارب روپے رہے جو ملکی جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں