اسٹیٹ بینک،پہلی بار 4سالہ جامع ریسرچ ایجنڈا جاری
پائیدار ترقی کیلئے تحقیق کے نئے خدوخال متعین،پالیسی سازی کیلئے تحقیق ناگزیر
کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے پہلی مرتبہ آئندہ چار سال کے لیے جامع ریسرچ ایجنڈا جاری کرتے ہوئے ملکی معاشی پالیسی سازی، مالیاتی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تحقیق کے نئے خدوخال متعین کر دیے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور مقامی معاشی حالات، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، سپلائی شاکس اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیش نظر مؤثر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے تحقیق کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ریسرچ ایجنڈے میں آئندہ چند برسوں کے دوران تحقیق کو تین بنیادی شعبوں پر مرکوز کیا گیا ہے جن میں مانیٹری پالیسی اور میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی شعبے کی کارکردگی اور ترقی، اور پائیدار و جامع اقتصادی نمو شامل ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق ان شعبوں میں ہونے والی تحقیق حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور بہتر فیصلوں میں معاون ثابت ہوگی۔ ریسرچ ایجنڈے میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی اور مقامی سپلائی شاکس، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور بیرونی معاشی دباؤ کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے ۔ ان عوامل نے افراطِ زر، پیداواری لاگت اور اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے ، جس کے نتیجے میں معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات نے زرعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کو نمایاں نقصان پہنچایا۔