ہتک عزت کیس:عمران خان کاحق دفاع بحال
نظرثانی اپیل اکثریتی فیصلے سے منظور،جسٹس ہاشم کاکڑکا اختلافی نوٹ ٹرائل کورٹ فریقین کو مؤقف پیش کرنے کامکمل موقع دے ،سپریم کورٹ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہتکِ عزت مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی اپیل اکثریتی فیصلے کے ذریعے منظورکر لی اوران کا حقِ دفاع بحال کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں29 دسمبر 2022 کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے سابقہ فیصلے بھی منسوخ کر دیئے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا، لہٰذا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوایا جاتا ہے ۔ دو رکنی اکثریت کے فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائے اور فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کرے ۔ مختصر فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے کھلی عدالت میں سنایا جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہتکِ عزت کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں چلے گا، جہاں قانون کے مطابق شواہد اور دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔