ججوں کے ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کا فیصلہ
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں عدالتی احتساب، شفافیت اور ضابطہ کار سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا اور 10 شکایات نمٹا دی گئیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق کونسل نے ججوں کے ضابطہ اخلاق میں بعض ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں کونسل کے طریقہ کار اور ضابطہ کار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار کیے گئے مسودہ قواعد کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم اس معاملے پر مزید غور و خوض کافیصلہ مؤخر کرتے ہوئے اسے آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کے ایک نمایاں مظاہرے کے طور پر کونسل نے اپنے بعض ارکان کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے متبادل ارکان کے طور پر شرکت کی۔ اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مختلف نوعیت کی 10 شکایات نمٹا دیں اور عدالتی احتساب کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 60واں اجلاس میں عدالتی اصلاحات، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور لاپتہ افراد سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں لاہور، پشاور، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے نمائندہ ججز نے شرکت کی ،سیکرٹری قانون نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کے مقدمات کے لیے علیحدہ کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔ مجوزہ کمیشن گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرنے سے متعلق قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کمیشن کے قواعد آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جائیں۔ مجوزہ کمیشن جسٹس (ر)منظور احمد ملک اور چیئرپرسن نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس رابعہ جویری آغا پر مشتمل ہوگا۔ کمیٹی نے ماڈل سول اور ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں جھوٹی اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے تیار کیے گئے جامع قانونی اور پالیسی فریم ورک کو سراہا گیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ غیر سنجیدہ مقدمات کی روک تھام کے لیے اخراجات سے متعلق قانونی دفعات کا موثر اطلاق یقینی بنایا جائے ۔ بینکاری مقدمات کے فوری اور کم لاگت تصفیے کے لیے متعدد اہم انتظامی اقدامات کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے ہائی کورٹس کو ہدایت کی کہ موجودہ بینکنگ کورٹس کے کام کے بوجھ کا جائزہ لیا جائے اور زیرالتوا مقدمات میں کمی کے لیے ضرورت کے مطابق اضافی بینکنگ کورٹس کے قیام پر غور کیا جائے ۔
اجلاس میں بینکنگ کورٹس کے ججوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز منعقد کرنے اور حکم امتناع سے متعلق قانونی دفعات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔مزیدبرآں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں ججز کی تقرری کے لیے انٹرویوز سے متعلق رولز کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹس کے ججز کی کارکردگی کے جائزے کے لیے قواعد و ضوابط پر بھی غور کیا گیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن رولز 2024 میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ہائی کورٹس کے آئینی بینچز میں ججز کی نامزدگی کے لیے طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ہفتے صوبائی ارکان کی شمولیت کے ساتھ کمیشن کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔