اپوزیشن کی وقفہ وقفہ سے نعرہ بازی،حکومتی ارکان کاغیرمعمولی تحمل
بجٹ اجلاس میں 2گھنٹے تاخیر، ابتدائی مرحلہ میں پی ٹی آئی ، جے یو آئی ارکان غیرحاضر وزیراعظم کاڈیسک بجا کر استقبال کیاگیا،دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا کے نعرے اپوزیشن ارکان احتجاج کی ویڈیوز اور تصاویر بناتے رہے ،جے یو آئی واک آؤٹ کر گئی پی ٹی آئی ارکان ڈیڑھ گھنٹے احتجاج کے بعد گیلری کی جانب چلے گئے ،ماحول پُرسکون ہوگیا
اسلام آباد(سید قیصر شاہ، سہیل خان، اسلم لڑکا) قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز شدید سیاسی گرما گرمی اور احتجاجی مناظر کی نذر رہا جہاں ایوان کا ماحول وقفے وقفے سے نعرے بازی اور شورشرابے سے گونجتا رہا۔ پی ٹی آئی ارکان نے بجٹ تقریر کے دوران مسلسل احتجاج کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑیں اور سپیکر ڈائس کے قریب جمع ہو کر نعرے لگاتے رہے تاہم حکومتی ارکان نے غیر معمولی تحمل اور خاموشی برقرار رکھی۔وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران بھی ایوان میں شور شرابہ جاری رہا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان حکومتی بینچز سے ڈیسک بجا کر اور نعرے لگا کر ماحول کو متحرک رکھتے رہے ۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی وزیر خزانہ سے ملاقات اور مصافحہ بھی نمایاں رہا۔
اجلاس کا آغاز دو گھنٹے کی تاخیر سے ہوا جس کے ابتدائی مرحلے میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان موجود نہیں تھے ۔ بعد ازاں تلاوت، حدیث اور نعت کے فوراً بعد پی ٹی آئی ارکان پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔وزیراعظم کے ایوان میں داخل ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے ڈیسک بجا کر اور دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگائے جبکہ اپوزیشن بینچوں سے بھی وزیراعظم کے خلاف نعرے بلند ہوتے رہے ۔ ایوان ایک بار پھر شورشرابے کی تصویر پیش کرتا رہا۔اپوزیشن ارکان نے احتجاج کے دوران ایجنڈے کی دستاویزات پھاڑ دیں، سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی کی اور بعد میں اس احتجاج کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بناتے رہے ۔ جے یو آئی کے ارکان کچھ دیر بعد ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ۔ پی ٹی آئی ارکان ڈیڑھ گھنٹے کے احتجاج کے بعد ایوان سے گیلری کی جانب چلے گئے جس کے بعد ماحول نسبتاً پرسکون ضرور ہوا تاہم سیاسی کشیدگی کی فضا برقرار رہی۔