ٹرمپ انتظامیہ کے ’’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘‘پر پابندی برقرار
1.8ارب کا فنڈ حکومت کے سیاسی متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کیلئے قائم ہونا تھا کینیڈی سنٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم برقرار، عدالت نے اپیل مسترد کر دی
الیگزینڈریا، ورجینیا ،واشنگٹن (اے پی،اے ایف پی)ایک امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 1.8 ارب ڈالر کے معاوضہ فنڈ کے قیام اور اس کے آپریشن پر عائد عدالتی پابندی میں توسیع کر دی۔یہ فنڈ ان افراد کو معاوضہ دینے کیلئے قائم کیا جا رہا تھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حکومت کے مبینہ سیاسی یا جانبدارانہ استعمال کا نشانہ بنے ہیں۔اس ماہ کے آغاز میں قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کانگریس کو بتایا تھا کہ شدید دو جماعتی سیاسی مخالفت کے باعث حکومت اس فنڈ کے قیام کا منصوبہ ترک کر رہی ہے ۔حکومتی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ فنڈ کا منصوبہ ختم کیا جا چکا ہے ، اس لئے اس کے خلاف دائر مقدمات اب غیر مؤثر ہو چکے ہیں تاہم درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ صرف زبانی اعلانات پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔امریکی ڈسٹرکٹ جج لیونی برنکیما بھی حکومتی مؤقف سے متفق نہیں ہوئیں اور انہوں نے فیصلہ دیا کہ اینٹی ویپنائزیشن فنڈ عدالتی حکم کے تحت اگلے حکم تک معطل ہی رہے گا۔
دوسری طرف امریکی وفاقی جج نے کینیڈی سنٹر کے بورڈ اور محکمہ انصاف کی جانب سے دائر وہ درخواست مسترد کر دی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام معروف پرفارمنگ آرٹس مرکز سے ہٹانے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ واشنگٹن میں واقع جان ایف کینیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس سے ٹرمپ کا نام جمعہ تک ہٹا دیا جائے ۔اس ہفتے کے آغاز میں کینیڈی سنٹر نے اپنی ویب سائٹ سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا تھا تاہم عمارت کے سفید سنگِ مرمر کے بیرونی حصے پر ان کا نام تاحال موجود ہے ۔