سیاسی مفاہمت کے بغیر بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں

سیاسی مفاہمت کے بغیر بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں

بیرونی دباؤ نہیں، اندرونی کمزوریاں پی ٹی آئی کی ناکامی کی بڑی وجہ

(تجزیہ:سلمان غنی)

 پی ٹی آئی میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ریلیف نہ ملنے کے عمل سے سخت پریشانی اور مایوسی نظر آ رہی ہے اور اب پارٹی قیادت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار کارکنوں کو جمع کر کے احتجاج کیا جائے تاکہ بانی کی طویل تنہائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔اس حوالے سے پارٹی قیادت نے بانی کی بہن علیمہ خان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جماعت اڈیالہ کے باہر دس ہزار کارکن لانے کیلئے تیار ہے ، تاہم اس کیلئے حتمی سگنل اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو دینا ہوگا۔ اس ضمن میں بانی کی بہنیں بھی اپوزیشن قیادت کی طرف دیکھ رہی ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ آخر اب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش کیوں پوری نہیں ہو رہی اور کیا پارٹی کسی بڑے احتجاج کی پوزیشن میں ہے ؟ اور کیا اپوزیشن کا دباؤ حکومت پر مؤثر ثابت ہو رہا ہے یا نہیں؟، پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جماعت  کی توجہ قومی و عوامی ایشوز کے بجائے صرف اپنے لیڈر سے ملاقات اور ریلیف تک محدود ہو گئی ہے ۔ پارٹی قیادت کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کے بجائے مصلحت پسندی کا شکار ہے ، جس کی بڑی وجہ مسلسل احتجاجی حکمت عملی اور اس کے نتیجے میں حکومتی اقدامات اور مقدمات کے باعث سیاسی طاقت کا کمزور ہونا ہے ۔خصوصاً خیبر پختونخوا حکومت بھی اس حوالے سے فعال کردار ادا نہیں کر پا رہی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپور کی طرز پر اسلام آباد کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہے ۔علیمہ خان کی جانب سے دس ہزار کارکنوں کو اڈیالہ جیل تک لانے کے مطالبے نے پارٹی قیادت کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے ، جبکہ بار بار کی احتجاجی کالز کے باوجود بڑی تعداد میں کارکنوں کی عدم موجودگی اس تحریک کو علامتی حد تک محدود کر رہی ہے ۔ پی ٹی آئی، جو اپنی سیاسی شناخت احتجاجی بیانیے اور جارحانہ طرز عمل سے رکھتی تھی، آج بڑی پارلیمانی قوت ہونے کے باوجود دفاعی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی اس کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے ۔ایک بڑی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جیل سے باہر ایسی قیادت موجود نہیں جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک وقت مؤثر تعلقات قائم رکھتے ہوئے بانی کیلئے سیاسی راستہ نکال سکے ۔پی ٹی آئی کی ابتدائی حکمت عملی یہ تھی کہ مسلسل احتجاج سے دباؤ بڑھا کر ریلیف حاصل کیا جائے ، لیکن یہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن لیڈرشپ کی نئی تقرریوں کے باوجود بھی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ۔ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کی ناکامی کی بڑی وجہ اندرونی یکسوئی کا فقدان ہے ، جبکہ جیل سے باہر مضبوط اور تجربہ کار قیادت کا نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔ موجودہ حالات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ریلیف سیاسی مفاہمت اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ممکن نظر آتا ہے ، تاہم اس سمت میں کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

اگرچہ اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن زیر بحث رہا ہے ، لیکن اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا، اور خود پارٹی اراکین بھی اس کے حق میں نہیں۔ پی ٹی آئی کے اندر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عملی فائدہ کیا ہوا ہے ، کیونکہ نہ بانی کو ریلیف ملا اور نہ ہی سیاسی پیش رفت ہو سکی۔حکومتی مؤقف کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور ان کا حل صرف قانونی عمل کے ذریعے ممکن ہے ، نہ کہ سیاسی دباؤ سے ۔ پی ٹی آئی کی موجودہ مشکلات کی جڑ 9 مئی کے واقعات کے اثرات ہیں، جن سے پارٹی اب تک مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی، جبکہ اسٹیبلشمنٹ بھی سیاست سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اپنے ریاستی کردار پر توجہ دے رہی ہے ۔ احتجاج ایک حد تک تو مؤثر ہوتا ہے مگر مسلسل احتجاجی سیاست اور ریاست و حکومت کے درمیان فرق نہ کرنا سیاسی جماعتوں کو مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے ، اور پی ٹی آئی اسی کیفیت کا شکار ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں