بجٹ بحث سیاسی بیانیوں کی نذر، معاشی تجاویز پس منظر میں

بجٹ بحث سیاسی بیانیوں کی نذر، معاشی تجاویز پس منظر میں

پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر بانی کی قید، رہائی، ملاقاتوں کے گرد گھومتی رہیں عوامی فلاح ، بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کی نمایاں تجاویز سامنے نہ آسکیں

 اسلام آباد (سید قیصر شاہ)عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی، جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا، کے مصداق پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے حکومت پر تنقید کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا مستقل حصہ بنا لیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران نئے مالی سال کے بجٹ میں بہتری اور موجود خامیوں کی نشاندہی کے لیے تجاویز دینے کے بجائے پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین کی تقاریر بانی پی ٹی آئی، ان کی قید، رہائی، ملاقاتوں اور دیگر سیاسی معاملات کے گرد گھومتی رہیں۔بجٹ بحث کے دوسرے روز بھی پی ٹی آئی کے اراکین نے بجٹ پر محدود گفتگو کی اور اپنی تقاریر میں حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم عوامی فلاح و بہبود، بجٹ میں بہتری اور عوام کو  مزید ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی نمایاں تجاویز سامنے نہ آسکیں۔ اجلاس کے دوران پی ٹی  آئی اراکین کی حاضری بھی نسبتاً کم رہی۔دوسری جانب حکومتی اراکین کی تعداد زیادہ تھی۔ وفاقی وزیر خزانہ، وزیر مملکت خزانہ اور دیگر وفاقی وزرا ایوان میں موجود رہے اور اراکین کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو نوٹ کرتے رہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے بعض اراکین مختلف اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں بھی مصروف دکھائی دئیے ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کی تنقید کا جواب اعداد و شمار اور حقائق کی روشنی میں دیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بھی بجٹ پر مدلل گفتگو کی، مختلف تجاویز پیش کیں اور بجٹ کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔مبصرین کے مطابق بجٹ بحث کے دوران حکومتی اور اتحادی اراکین کی جانب سے مالی معاملات اور تجاویز پر نسبتاً زیادہ توجہ دی گئی جبکہ پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین کی تقاریر سیاسی موضوعات اور اپنے دورِ حکومت کی کارکردگی کے دفاع پر مرکوز رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں