سینیٹ خزانہ کمیٹی:سوشل میڈیا کمائی پر 5فیصد ٹیکس کی تجویز منظور
سالانہ 6 لاکھ تک آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی ،وزیر خزانہ کا سپر ٹیکس مکمل ختم کرنیکا عندیہ
اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ،آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے یوٹیوبرز، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمائی کرنیوا لے پاکستانیوں پر5فیصد ٹیکس لگانے کی منظوری دیدی ، سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن ٹیکس سے مستثنٰی ہوگی جبکہ 6 سے 12 لاکھ روپے تک آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوگاجبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا عندیہ دے دیا۔کمیٹی نے لائف انشورنس پالیسیوں کے منافع والے حصے پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی تاہم اصل سرمایہ، وفات یا معذوری کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اور سات سال بعد میچور ہونے والی پالیسیوں کو ٹیکس استثنیٰ حاصل رہے گا۔ سینیٹ کمیٹی خزانہ کا اجلاسچیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سے ہونے والی اس آمدن پر فی الحال 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، اس پر کمیٹی کے سینئر رکن سلیم مانڈوی والا نے اس تجویز پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جب آپ سوشل میڈیا کی کمائی پر اس طرح ٹیکس عائد کر دیں گے تو ملک میں باہر سے آنے والے پیسے رک جائیں گے اور لوگ قانونی راستوں سے رقم منگوانا بند کر دیں گے ۔چیئرمین ایف بی آر نے سلیم مانڈوی والا کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے ڈیجیٹل کمائی پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ باقاعدہ ایک انکم یعنی آمدنی ہے ، اس لیے اس کو بھی ملک کی دیگر عام آمدنیوں کی طرح نارمل انکم ٹیکس کے تحت ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ہر سال سپر ٹیکس کے خاتمے کی مزید کوشش کرتے رہیں گے۔
دوران اجلاس رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے تجویز پیش کی کہ سپر ٹیکس میں استثنٰی کی حد 50 کروڑ کی بجائے ایک ارب کردیں۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ حد ایک ارب کرنے کیلئے پھر 250 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کرنے ہونگے ۔ کمیٹی نے وراثتی جائیداد کی تقسیم اور والدین کے انتقال کے بعد جائیداد کے تصفیے پر سیلز ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی بھی منظوری دی۔ایف بی آر نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 55 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جا رہے ہیں ۔8 ہزار 697 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جن کے بینک اکاؤنٹس میں لگ بھگ 750 ارب روپے کے ڈیپازٹس موجود ہیں لیکن انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔کمیٹی نے فنانس بل پر غور آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔