حکومت بتائے ہمارے ساتھ مذاکرات میں دیر کیوں؟ تحریک انصاف
ہم نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی مانگی ،وزیراعظم کی پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں:چیئرمین پی ٹی آئی اسمبلی میں ہنگامہ ،گالم گلوچ ، خواجہ آصف کے ضمیر پر بوجھ ہے تو چوری کی سیٹ سے استعفیٰ دیں:اسد قیصر
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ،نامہ نگار،سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،ہم وزیراعظم کی پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہمیں بتایا جائے ان مذاکرات میں دیر کس بات کی ہے ؟، ہم نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی مانگی ہے ۔ آج ایوان کی ابتدا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اچھے الفاظ سے نہیں ہوئی، بار بار کہتے ہیں برداشت کا مظاہرہ کریں اس سے تناؤ اور نفرتیں کم ہوں گی، ایوان کو مضبوط کرنا ہے تو ایک یادداشت پر دستخط کرنا ہوں گے ۔ بحث کے دوران ہنگامہ اورحکومتی واپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، گالم گلوچ اور شور شرابے نے ایوان کو مچھلی منڈی میں تبدیل کر دیا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ کارروائی متاثر ہوئی اور ڈپٹی سپیکر کو متعدد بار مداخلت کرنا پڑی۔
رانا تنویرکے سخت الفاظ پرعاطف خان لڑنے کیلئے وفاقی وزیر کی نشست کی طرف دوڑے ،عامر ڈوگر و دیگر اپوزیشن ارکان نے پکڑ لیا جبکہ بانی کے علاج سے متعلق اظہر ناہرا کے ریمارکس پر پی ٹی آئی کے شفقت اعوان اور لیگی ارکان میں جھگڑا ہوا، ایوان مچھلی منڈی بن گیا ۔اجلاس میں حکومتی ممبران نئے مالی سال کے بجٹ کو سہراتے رہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کو ظالمانہ اورعوام دشمن بجٹ قراردیا جاتارہا ۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اظہر قیوم ناہرا بجٹ پر بحث میں حصہ لے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس بیان پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا۔اسی دوران پی ٹی آئی کے رکن شفقت اعوان اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے معذرت کا مطالبہ کیا جبکہ ڈپٹی سپیکر نے وزیر مملکت طلال چودھری کو معاملہ ٹھنڈا کرانے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں دونوں جانب کے ارکان نے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی جس کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔پیپلز پارٹی کے رکن علی موسیٰ گیلانی نے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں علاج معالجے کی سہولت بھی شامل کی جائے تاکہ غریب افراد کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔ انہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا مطالبہ بھی دہرایا۔ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے آٹھ سو ارب روپے جبکہ تعلیم کے لیے صرف پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس لیے تعلیم کے شعبے کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت ملک کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے وسیع اصلاحات پر عمل پیرا ہے جن میں میکانائزیشن، بیج کی ریگولیشن، تحقیق، کسانوں کی معاونت کے پروگرام اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں۔ حکومت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید کاشتکاری کے طریقوں پر توجہ دے رہی ہے تاکہ پیداوار بہتر ہو۔ ان کی تقریر کے د وران پی ٹی آئی کے ارکا ن کی جانب لقمہ دینے پر وہ طیش میں آگئے رانا تنویر حسین نے کہاکہ میں چیلنج کرتا ہوں اپنے لیڈر کو میرے مقابلے میں الیکشن لڑوا کے دیکھ لووہ تمہارا باپ ہو گا، چیلنج دیتا ہوں مجھے کوئی ایک ووٹ غلط نہیں ڈالا گیا، میرے خلاف ضرور ڈالے گئے ہوں گے ۔رانا تنویر کی جانب سے سخت الفاظ بولنے پر پی ٹی آئی کے رکن عاطف خان اور رانا تنویرکے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہو ا ،عاطف خان رانا تنویر کی نشست کی طرف لڑنے کیلئے دوڑے تو سپیکر نے کہا کہ نہ عاطف نہ عاطف ایسا نہ کریں ۔عاطف خان کو عامر ڈوگر سمیت اپوزیشن ارکان نے پکڑ لیا آگے نہ بڑھنے دیا ۔
بعدازاں رانا تنویر نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہاکہ حکومت زرعی تحقیق کو بھی ترجیح دے رہی ہے ۔ زرخیز سکیم نامی ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین والے چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت کے قرضے دیئے جائیں گے ۔ پی پی کی شازیہ مری نے کہاکہ آپ لوگوں کی آواز سنیں اور روڑے نہ اٹکائیں۔ این ایف سی کے حوالے سے ترمیم کی باتیں ہورہی تھیں۔ ہم نے کڑوا گھونٹ پیا اور این ایف سی میں تبدیلی نہیں ہوئی ۔اتنی آسانی سے یہ چیزیں آپ صوبوں سے واپس نہیں لے سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ بلاول نے کہا تھا صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
سابق سپیکر اسد قیصر نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ خواجہ آصف نے کل کہا کہ میرے گھر میں آئی ایس آئی کے ساتھ میٹنگز ہوتی تھیں ۔ایک تو یہ گھر اسد قیصر کا نہیں سپیکر قومی اسمبلی کا تھا ۔میں تو ایف اے ٹی ایف کے بلز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سہولت کاری کررہا تھا ۔آئی ایس آئی کے افسران اینٹی منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بلز پر اپنی ان پٹ دے رہے تھے ۔اسد قیصر نے کہاکہ خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے ضمیر پر بوجھ ہے خواجہ آصف بتائیں آٹھ فروری 2024کا الیکشن کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں۔کیا وہ ریحانہ ڈار سے بہت بڑی لیڈ سے نہیں ہارے تھے ۔اگر ان کے ضمیر پر بوجھ ہے تو چوری کی گئی سیٹ سے استعفیٰ دیں۔ خواجہ آصف ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے آئیں دوبارہ ریحانہ ڈار سے الیکشن لڑ لیں۔