مفاہمت کا حتمی متن طے پاگیا، فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دیے: ایران کی تصدیق

تہران: (دنیا نیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پا گیا ہے جس کے بعد فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کے متن پر ایران اور امریکہ کے صدور نے دستخط کیے ہیں، جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کیلئے نہیں۔

اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے‏، جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔

بعدازاں ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو آج سے آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے، امریکہ پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے۔

اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔

خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں