بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف اے آئی کے غلط استعمال میں اضافہ

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور من گھڑت آوازوں کے ذریعے خواتین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مسلم خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کر کے سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے جبکہ بعض کیسز میں جعلی اے آئی وائس اوورز بھی استعمال کئے گئے ہیں۔

متاثرہ خواتین نے ان واقعات کے خلاف شکایات درج کروا دی ہیں اور متعلقہ حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین سے متعلق جنسی نوعیت کے اے آئی مواد کو لاکھوں ویوز حاصل ہو رہے ہیں، جس سے آن لائن ہراسانی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مطالعات میں مسلم خواتین کے خلاف چلائی جانے والی ان منظم آن لائن مہمات کو "سیاست کی فحش کاری" قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والا یہ جعلی اے آئی مواد نفرت انگیز بیانیوں کو تقویت دے رہا ہے اور معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

دوسری جانب قانونی اور سائبر کرائم اداروں کو اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین نے حکومتوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال کے خلاف مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کو منظم آن لائن ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں