عدم برداشت سے ایوان ا کھاڑہ بننے لگا، تلخ کلامی معمول
ہاتھا پائی،بدزبانی معمول ،پارلیمانی کارروائی متاثر ،خواتین کا احترام نظر انداز
اسلام آباد (اسلم لُڑکا، قیصر شاہ) قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کے بجٹ پر جاری بحث کے دوران ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔ سیاسی کشیدگی اور عدم برداشت کے رویوں نے ایوان کو اکھاڑہ بنا دیا۔پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات معمول بن گئے جس سے پارلیمانی کارروائی متاثر ہو رہی ہے ۔پارلیمنٹ کو جمہوری نظام کا اہم ستون قرار دیا جاتا ہے جہاں اختلاف رائے کو دلیل اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاہم حالیہ صورتحال میں سنجیدہ بحث کے بجائے الزامات، غیر پارلیمانی الفاظ اور ذاتی حملوں کا رجحان بڑھ گیا ۔
خواتین ارکان کے احترام کو بھی نظر انداز کیے جانے پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے ۔بجٹ بحث کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں انتخابی مقابلے کا چیلنج دیا۔ اس پر پی ٹی آئی کے رکن عامر ڈوگر نے نشست سے ہی ردعمل دیتے ہوئے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا جس کے بعد تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔اسی دوران پی ٹی آئی کے رکن عاطف خان مبینہ طور پر وفاقی وزیر کی جانب بڑھ گئے تاہم دیگر ارکان نے بیچ بچاؤ کر کے معاملہ رفع دفع کرایا۔ اس دوران دونوں جانب سے غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا گیا اور ایوان کا ماحول شدید طور پر متاثر ہوا جبکہ سپیکر بار بار ارکان کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے رہے ۔
بجٹ پر خوشگوار انداز میں شروع ہونے والی بحث جلد ہی تلخ کلامی اور شور شرابے میں تبدیل ہو گئی ،ارکان ایک دوسرے کو کھلے عام للکارتے رہے اور ایوان کا ماحول مکمل طور پر متاثر ہو گیا۔ اس دوران بیچ بچاؤ کرانے والے ارکان بھی اس کشیدہ صورتحال کی زد میں آ گئے ۔ خواتین ارکان نے بار بار گالی دینے والے رکن کی معذرت اور رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا تاہم شور شرابے کے باعث ان کی آواز دب کر رہ گئی۔پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے ن لیگ کے ارکان کو جعلی اور فارم 47 کی پیداوار جیسے طعنے دئیے گئے ۔ایوان میں جاری یہ ہنگامہ آرائی پارلیمانی ماحول کے لیے تشویشناک قرار دی جا رہی ہے جبکہ بجٹ منظوری کے مرحلے پر مزید احتجاج کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔