آزاد کشمیر معاملات میں تاخیر ملکی مفادات کیلئے نقصان دہ
حکام کے دھمکی آمیز بیانات سے صورتحال ابتر ،طرز عمل بدلنا ہوگا
(تجزیہ: سلمان غنی)
کشمیر کے سیاسی حالات پر نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کشمیری عوام کو پرامن رہنے ، د ھرنے ختم کرنے اور بامقصد مذاکرات کی بات کو موجودہ حالات میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر لیا جاسکتا ہے کیونکہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل ہی کارگر اور نتیجہ خیز ہوتا ہے ، قانون کو ہاتھ میں لینے اور قانون پر اثر انداز ہونے کا رجحان وقتی طور پر تو احتجاج کی شدت کو بڑھاتا ہے لیکن اس کے نتیجہ میں سیاسی جدوجہد متاثر ہوتی ہے ،لہٰذا مذکورہ صورتحال میں اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ کشمیر میں تشدد کیونکر آیا ؟ کون سے عناصر مسائل کے حل کی بجائے قانون پر اثر انداز ہونے کے مرتکب ہوئے ؟ اور کیا مسلم لیگ(ن) کی قیادت کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کا تدارک کرسکتی ہے ؟۔ پیپلز پارٹی کی کشمیر میں حکومت ہے اور پیپلز پارٹی ،بلاول بھٹو زرداری اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم مسلسل یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ مسائل کے سیاسی حل کیلئے ڈائیلاگ ہی آپشن ہے ،اچھا ہوتا کہ حالات اس نہج پر نہ پہنچتے کیونکہ کشمیر میں پیدا شدہ حالات میں معاملہ تو کشمیری عوام کو درپیش مسائل کا تھا لیکن جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے کشمیر پرپاکستان کے اصولی موقف کو نقصان پہنچا اور محب وطن حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی، عام طور پر سب اس بات پر متفق نظر آرہے تھے کہ کشمیر کے معاملات ڈنڈے کے زور پر نہیں افہام وتفہیم سے ہی حل ہونے چاہئیں ، ایک سال میں دوسرا موقع ہے کہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کشمیری سڑکوں پر نکل آئے یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بے چینی بڑھتی نظر آرہی تھی ، خاص طور پر نوجوان یہاں موجود طرز حکمرانی سے شدید مایوسی کا شکار ہیں ،مظاہرین کے تحفظات کے ازالہ کی طرف پیش رفت کی بجائے انتظامیہ کے جارحانہ طرز عمل نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں لگایا جاسکتا ہے جس نے یہاں انٹر نیٹ کی بندش اور حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہا ر کیا ،کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال پر ہرپاکستانی کو تشویش ہے اور وہ اس صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے ،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں تقریباً نوے فیصد مطالبات تسلیم کرلئے گئے اور ان پر پیش رفت کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن مظاہرین ان بارہ نشستوں کا خاتمہ اپنے لئے انا کا مسئلہ بناتے نظر آئے جو مہاجرین کیلئے مختص ہیں ،آئندہ علاقائی انتظامات کیلئے ضروری ہے کہ یہاں سا ز گارماحول بحال ہو،حکام یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کے دھمکی آمیز بیانات سے صورتحال بہتر نہیں ابتر ہورہی ہے ، اس طرز عمل میں تبدیلی آنی چاہیے ، بلاول بھٹو زرداری کے بعد ن لیگ کی لیڈر شپ بھی مسائل کے سیاسی حل کی بات کررہی ہے تو اس ضمن میں پیش رفت ہونی چاہیے ،مسائل کے حل میں تاخیر پاکستان کے مفادات کیلئے نقصان دہ ہوگی۔