ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور پاکستان کیلئے اصل امتحان

ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور پاکستان کیلئے اصل امتحان

الیکٹرانک دستخطوں کا فیصلہ ایرانی قیادت کے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہوا

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر وزیراعظم شہباز شریف کے بطور ثالث دستخط فریقین کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کے ساتھ عالمی محاذ پر ایک بڑی سفارتی کامیابی اور علاقائی اثر و رسوخ کے لئے ایک سنگ میل ہے ،لیکن اس کا اصل امتحان مذاکرات کے اگلے دور پر ہوگا کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام ،پابندیوں میں نرمی اور خطے میں امریکی موجودگی جیسے اہم مسائل حل طلب ہیں اور ان پر فریقین میں اختلافات موجود ہیں، آنے والے دن یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ ایک پائیدار امن کا آغاز ہے یا محض ایک وقتی پیش رفت ہے ۔فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اب مذاکرات کا اگلا سلسلہ کہاں سے شروع ہوگا لیکن ا ب فریقین کے پاس ایک بنیاد اور 14نکات سامنے آ چکے ہیں جن پر بات چیت کو آگے کی طرف بڑھانا ہے ۔

یہ ابتدائی مفاہمت ہے اور حقیقی امتحان آگے آنا ہے جس پر آئندہ 60روز کے اندر تفصیلات طے ہوں گی اور اس دوران بھی معاملات میں اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے ۔جہاں تک مفاہمتی یادداشت پرالیکٹرانک دستخطوں کی بات ہے تو اس کی بڑی وجہ ایرانی لیڈر شپ کے بعض خدشات تھے اور وہ سکیورٹی کی بنا پر سوئٹزر لینڈ جانے سے گریزاں نظر آئے ،اطلاعات یہ ہیں کہ اس ضمن میں بالواسطہ طور پر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے بعد الیکٹرانک دستخطوں کا فیصلہ ہوا اور فرانس میں موجود صدر ٹرمپ نے اور تہران میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کئے اور پھر یہ دستاویز اسلام آباد پہنچی جس پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کئے جس کے بعد طے شدہ تقریب منسوخ کردی گئی، بلاشبہ سوئٹزر لینڈ میں یہ تقریب منعقد ہوتی اور یہاں فریقین دستخطوں کا فریضہ سرانجام دیتے تو مذکورہ تقریب کی ایک عالمی حیثیت بنتی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں