خزانہ کمیٹی:درآمدی ہائبرڈ،الیکٹرک گاڑیوں پر40فیصد تک کسٹم ڈیوٹی کی تجویز منظور
92 فیصد تک خصوصی ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد ہوگی، ایف بی آر کی سمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی ای گاڑیوں کے پرزوں پر سیلز ٹیکس رعایت میں توسیع منظور ،درآمدی فونز سے سالانہ37 ارب ٹیکس وصول،بریفنگ
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30سے 40فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 86 سے 92فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی،چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیا ل نے سمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کی بھی یقین دہانی کرا دی، خزانہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں، ریگولیٹری ڈیوٹی، نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق اہم تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایف بی آر نے درآمدی اور مقامی موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی حکام کے مطابق 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس کی شر ح 25 فیصد، 31 سے 100 ڈالر مالیت کے فونز پر 36 فیصد جبکہ 101 سے 200 ڈالر مالیت کے فونز پر 40 فیصد ہے ۔ب
ریفنگ میں بتایا گیا کہ 201 سے 350 ڈالر مالیت کے فونز پر مؤثر ٹیکس شرح 38 فیصد، 351 سے 500 ڈالر مالیت کے سمارٹ فونز پر 40 فیصد اور 500 ڈالر سے زائد مالیت کے فونز پر مؤثر ٹیکس شرح 41 فیصد تک پہنچ جاتی ہے ۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ موبائل فون کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی جاتی ہے اور موبائل فون پر عائد ٹیکس 1500 روپے سے بڑھ کر 141500 روپے تک پہنچ جاتا ہے بریفنگ کے مطابق درآمدی موبائل فونز کا 44 فیصد حصہ 31 سے 100 ڈالر مالیت کی کم ٹیکس والی کیٹیگری میں شامل ہے جبکہ تمام درآمدی موبائل فون کیٹیگریز میں اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد بنتی ہے ۔ اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ میں اس وقت لاکھوں نان پی ٹی اے موبائل فون موجود ہیں۔ اراکین نے تجویز دی کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی ادائیگی کیلئے اقساط کا نظام متعارف کرایا جائے ۔
چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر اور پی ٹی اے کو مشترکہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 200 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ اجلاس میں رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے سوال کیا کہ آیا موبائل فونز پر یہ اقدامات محض ریونیو کیلئے ہیں یا کسی مخصوص کمپنی کے تحفظ کیلئے کیے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے موبائل فون کی خریداری پر اتنا بڑا مالی بوجھ نہیں ہونا چاہیے ، جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ موبائل فونز سے حاصل ہونے والی آمدن حکومتی ریونیو اہداف کا اہم حصہ ہے ان کے مطابق درآمدی موبائل فونز سے سالانہ تقریباً 37 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جن میں سے صرف ایپل فونز سے 21 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا ہے چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ کم قیمت موبائل فونز کی سلیب میں کمی سے تقریباً ایک ارب روپے ریونیو کا فرق پڑے گا جبکہ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے متبادل ذرائع سے آمدن کا بندوبست کرنا ہوگا اجلاس کے دوران اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی کمیٹی اراکین نے بجٹ 2026-27 میں موبائل فونز پر عائد اضافی ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے خاتمے کے وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
رکن کمیٹی علی قاسم گیلانی نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے وہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاہم پارلیمان کی دونوں کمیٹیوں کو یقین دہانی کے باوجود ڈیوٹیز برقرار رکھی گئیں۔ کمیٹی نے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز ڈیجیٹل پاکستان کے حکومتی وژن کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ تفصیلی غور کے بعد قائمہ کمیٹی نے سمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز منظور کر لی ۔چیئرمین ایف بی آر نے درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی بھی کرائی، دوسری جانب اجلاس میں نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہو رہی ہے جبکہ نئی پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے ۔ سیکرٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی شرح کو موجودہ 156 فیصد سے کم کر کے 74 فیصد تک لانے کی تجویز ہے ۔اسی طرح 1500 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی شرح 91 فیصد سے کم کر کے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم کر کے 52 فیصد اور 850 سی سی گاڑیوں پر 66 فیصد سے کم کر کے 42 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے ۔
وزیر مملکت خزانہ نے واضح کیا کہ نئی آٹو پالیسی میں 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر سپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جا رہی تاہم ایف بی آر کے مطابق 2000 سے 3000 سی سی تک درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد اور 3000 سی سی سے زائد درآمدی گاڑیوں پر 92 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت بڑی اور لگژری گاڑیوں کو سستا نہیں کرنا چاہتی ۔اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کے درآمدی پرزوں پر ایک سال کیلئے ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت میں توسیع کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے ۔ 75 ہزار ڈالر مالیت تک کی درآمدی ای وی گاڑیوں پر 30 فیصد جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی ای وی گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگانے کی سفارش کی گئی ہے قائمہ کمیٹی نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 86 سے 92 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی۔