قیمتوں کے تعین کی یکطرفہ پالیسی سے پاکستان کا پٹرولیم سیکٹر دیوالیہ پن کے خطرات سے دوچار:او سی اے سی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)نے وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ۔۔۔
پٹرولیم قیمتوں کے تعین کی یکطرفہ حکومتی پالیسی سے پاکستان کا پٹرولیم سیکٹر شدید مالی بحران، سرمایہ کاروں کے انخلا اور دیوالیہ پن کے خطرات سے دوچار ہو گیا ہے جس سے توانائی شعبے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے ۔او سی اے سی کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی نئے فارمولے کے تحت کی گئی جسکا مالی بوجھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز پر ڈالا گیا۔ تقریباً 5 لاکھ 5 ہزار میٹرک ٹن پٹرول اور 6 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن ہائی سپیڈ ڈیزل کے موجودہ ذخائر کی بنیاد پر صنعت کو تقریباً 104 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جو حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔صارفین کو ریلیف دینا خوش آئند ہے تاہم اسکی قیمت او ایم سیز اور ریفائنریز سے نہیں لی جا سکتی۔ کونسل نے وزیر توانائی سے فوری ملاقات کامطالبہ کیا ہے تاکہ مشاورت سے منصفانہ قیمتوں کا نظام وضع کیا جا سکے ۔