یلو لائن منصوبہ،8.5ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں،سابق پروجیکٹ ڈائریکٹرکا ریمانڈ منظور

یلو لائن منصوبہ،8.5ارب کی  مبینہ بے ضابطگیاں،سابق  پروجیکٹ ڈائریکٹرکا ریمانڈ منظور

کراچی (عبدالحسیب خان) بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی لنک عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کرتے ہوئے 27 جون کو پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 اینٹی کرپشن حکام ملزم ضمیر عباسی کو نجی گاڑی اور بغیر ہتھکڑیاں لگائے صوبائی اینٹی کرپشن عدالت لیکر پہنچے تاہم جج کی رخصت کے باعث ملزم ضمیر عباسی کو سٹی کورٹ کی لنک عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر انسپکٹر شیر زمان نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ضمیر عباسی یلو لائن منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے اور انہیں 22 جون کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی عدالت سے چار روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا اور کیس کے دوسرے نامزد ملزم جہمنداس کی گرفتاری بھی مطلوب ہے ۔ تفتیشی افسر کے مطابق کراچی موبلٹی پروجیکٹ کے تحت ورلڈ بینک کی معاونت سے جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں 8.5 ارب روپے کی غیر محفوظ مالی معاونت اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ انکوائری کمیٹی نے نئے جام صادق پل، ڈپو ون داؤد چورنگی اور ڈپو ٹو انڈس اسپتال کی تعمیر سے متعلق معاہدوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ضمیر عباسی اور سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جہمنداس نے مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور ایک ارب روپے سے زائد کا بالواسطہ نقصان ہوا۔عدالت کے سوال پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری خزانے کو کتنا نقصان ہوا ہے اور انکوائری میں ملزم کے خلاف کون سے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ملزم کی جانب سے راج علی واحد ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 63 کے تحت مقدمے سے ڈسچارج اور رہائی کی درخواست دائر کی۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں ساڑھے آٹھ ارب روپے کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ رقم ایک اکاؤنٹ میں رکھی گئی تھی جس سے ایک ارب روپے سے زائد منافع حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر عباسی کو 11 جون سے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور ان کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور میں مقدمہ اور مختلف درخواستیں بھی دائر کی جا چکی ہیں۔

وکیل صفائی نے مزید استدلال پیش کیا کہ ملزم کی گرفتاری کا کوئی آزاد گواہ موجود نہیں، لاہور پولیس کا کوئی اہلکار گواہ نہیں بنایا گیا، جبکہ اینٹی کرپشن قوانین کے مطابق مطلوبہ انکوائری بھی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وزیر اعلیٰ کی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے جس کی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں لہٰذا اسے رہا کیا جائے ۔ سماعت کے دوران ضمیر عباسی نے خود عدالت کو بتایا کہ ان پر جعلسازی اور ریکارڈ میں ردوبدل کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں منصوبے کے لیے ایڈوانس ادائیگی تعمیراتی سامان کی خریداری کے لیے کی گئی تھی۔اسی بنیاد پر عدالت نے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی افسر کے حوالے کرتے ہوئے 27 جون کو پیش رفت رپورٹ سمیت دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں